ستائیس سال سے بستر پر رہ کر دگ وجے سنگھ دوسروں کو دے رہے ہیں زندگی جینے کا حوصلہ

بھوپال۔ اگرچہ زندگی نے انہیں دھوکہ دیا ہے لیکن وہ لوگوں میں زندگی جینے کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں۔

Sep 02, 2015 02:30 PM IST | Updated on: Sep 02, 2015 02:31 PM IST
ستائیس  سال سے بستر پر رہ کر دگ وجے سنگھ  دوسروں کو دے رہے ہیں زندگی جینے کا حوصلہ

بھوپال۔ اگرچہ زندگی نے انہیں دھوکہ دیا ہے لیکن وہ لوگوں میں زندگی جینے کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں۔  اپنے غموں کو بھول كر وہ لوگوں کو خوش ہوکر زندگی میں آگے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ جسمانی معذوری کے بعد بھی دارالحکومت بھوپال کے دگ وجے سنگھ لوگوں کو ترغیب دے رہے ہیں۔ کئی سالوں  سے لاعلاج بیماری سے لڑنے کے بعد بھی  وہ لوگوں کو اپنے دکھوں کو بھول  کر حوصلہ دینے کی نئی مثال پیش کر رہے ہیں۔

بھوپال کے دگ وجے سنگھ ہمیشہ خوش وخرم رہنے اور ہر لمحے سے لطف اندوز ہونے والے شخص تھے۔ لیکن اچانک ہوئے ایک حادثے نے ان کی زندگی ہی بدل دی۔ آج سے 27 سال پہلے ایک حادثے کے بعد دگ وجے سنگھ کی زندگی صرف ایک بیڈ پر ہی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ گنپتی تہوار کے دوران تیاریاں کرتے وقت اچانک پیر پھسل جانے سے وہ چھت سے نیچے گر پڑے۔ اس کے بعد دگ وجے سنگھ کو لاعلاج  كواٹر پيلجيا بیماری ہوگئی۔ جس کے بعد ملک بھر کے ہسپتالوں میں علاج کرانے کے بعد بھی اب تک ان کی بیماری ٹھیک نہیں ہوئی ہے۔

Loading...

دگ وجے سنگھ نے اپنی زندگی میں جن حالات کا سامنا کیا، وہ نہیں چاہتے کہ دوسرے  لوگ بھی ان حالات سے  گزریں۔ اس کے بعد انہوں نے لوگوں کو حوصلہ دینے کی شروعات کی۔ لوگوں کو ان کے دکھوں سے نکالنے کی  انہوں نے ایک نایاب کوشش شروع کی۔

چار سال پہلے فیس بک اور سوشل سائٹس کے ذریعے دگ وجے سنگھ نے ان لوگوں سے بات کرنا شروع کی جو اپنی زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں۔  مشکل حالات میں بھی  لوگوں میں زندگی بسر کرنے کا جذبہ بیدار کیا اور انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ زندگی دراصل نام ہی ہے جدوجہد اور مشقت کا۔

فیس بک پر لوگوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ  فون پر بھی بات کر ان کی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ دگ وجے سنگھ کی انگلیاں کام نہیں کرتی ہیں  لیکن وہ اپنی مٹھی سے ہی میسج ٹائپ کرتے ہیں۔ ان کی مشکلات کو سن کر ان کی ہر طرح سے مدد کرتے ہیں۔

دگ وجے سنگھ اپنے بستر سے چل پھر نہیں پاتے ہیں، لیکن ان کا زندگی جینے اور دوسروں کی زندگی پٹری پر لانے کا جذبہ یقیناً قابل تعریف ہے۔

Loading...