جس اسکول پر لہرایا تھا آزاد ہندوستان کا پہلا ترنگا، آج اس کا ہو گیا ہے برا حال

جس اسکول نے آزادی کی لڑائی کو دیکھا، جس نے آزادی کے جشن کو دیکھا اور پورے بھوپال میں جس اسکول پر آزاد ہندوستان کا پہلا ترنگا لہرایا گیا تھا

Aug 04, 2015 09:45 PM IST | Updated on: Aug 04, 2015 09:47 PM IST
جس اسکول پر لہرایا تھا آزاد ہندوستان کا پہلا ترنگا، آج اس کا ہو گیا ہے برا حال

بھوپال :  جس اسکول نے آزادی کی لڑائی کو دیکھا، جس نے آزادی کے جشن کو دیکھا اور پورے بھوپال میں جس اسکول پر آزاد ہندوستان کا پہلا ترنگا لہرایا گیا تھا ، آج وہی اسکول انتظامیہ کی نظر اندازی اور لاپروائی کی وجہ سے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ۔

بھوپال کا رشيديہ اسکول کوئی عام اسکول نہیں ہے ، آج خستہ ہو چکی اس اسکول کی عمارت سے کئی تاریخی اور یادگار لمحے وابستہ ہیں ، 1906 میں تعمیر ہوئے اس اسکول کی تاریخ اتنی قدیم ہے کہ ملک آزاد ہونے کے بعد ترنگا لہرانے کے لئے پورے بھوپال میں اسے ہی منتخب کیا گیا ۔

rashidiya-2

تاریخی اہمیت کا حامل یہ اسکول نہ صرف آزادی کی جنگ اور آزاد ہندوستان کا گواہ ہے، بلکہ اس نے تو ریاست کو بھی کئی بڑی ہستیاں دی ہیں ، یہاں تک کہ ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے بابو لال گور بھی اسی اسکول سے پڑھے ہوئے ہیں ۔

Loading...

کئی بار اپنے پرانے اسکول کا جائزہ لے چکے گور نے ابھی تک اس کی مرمت کام نہیں کروایا ہے ،  یہاں تک کی 2012 میں یہاں حکومت کی طرف سے تعمیر کروائی گئی چہار دیواری بھی کچھ ہی دنوں میں گر گئی تھی ، جسے آج تک دوبارہ نہیں بنوایا گیا ہے ۔

گور ہی کیا 11 دہائی قدیم رشيديہ اسکول میں تو خود وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان بھی آ چکے ہیں ، شیوراج نے تو 2014 میں سووچھ بھارت ابھیان کے تحت یہیں آ کر بچوں کے ہاتھ دھلواے تھے ، جس کے بعد انہوں نے اسکول کا جائزہ بھی لیا تھا ۔

rashidiya-3

یہاں پڑھنے والے بچوں نے خود سی ایم سے اپنے اسکول کی حالت زار بیان کی تھی ، جس کے بعد وزیر اعلی نے اسکول کے ترقیاتی کام کے لئے محکمہ تعلیم کے افسران کو پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ۔ یہی نہیں جلد از جلد اسکول کی چہار دیواری بنانے کے ہدایت بھی دی لیکن پروگرام ہونے کے بعد یہ ہدایت سرد بستے میں پڑی ہوئی ہے  اور 8 ماہ گزر جانے کے بعد  بھی انتظامیہ کی جانب سے یہاں کوئی کام نہیں کیا گیا ہے ۔ تعمیر کا کام تو دور سی ایم کی ہدایت کے بعد تو کوئی افسر بھی یہاں کی حالت جاننے نہیں آیا ۔

گزشتہ کئی سالوں سے حکومت اور انتظامیہ کے آفس کے چکر کاٹ رہے اور خط لکھ لکھ کر تھک چکے اس اسکول کے استاد بھی اب مایوس ہونے لگے ہیں ،  انہوں نے بتایا کہ کئی سالوں سے وہ مسلسل تمام اعلی افسران اور وزراء کو اسکول کی حالت زار کے بارے میں بتا چکے ہیں  ، لیکن آج تک کسی نے بھی مدد کا ہاتھ آگے نہیں بڑھایا ۔

خستہ ہوتی اسکول کی عمارت اور بچوں کے لئے بنیادی سہولیات تک نہ ہونے کی وجہ سے اب یہاں کلاسیں لینی مشکل ہو گئی ہیں  ، بچوں کی تعداد روز بروز گھٹتی ہی جا رہی ہے ۔ اتنا ہی نہیں اب تو یہاں ایڈمشن لینے والے بچوں کی تعداد میں بھی بڑی کمی آگئی ہے ، ایسے میں آزاد ہندوستان کا پہلا پرچم لہرا كر آزاد ہندوستان کا گواہ بننے والا یہ اسکول کب تک چل پائے گا، اب یہ کہنا واقعی مشکل ہوگیا ہے ۔

کلاس روم میں پاني

 اپنے مستقبل کے خوابوں کو اڑان بھرنے کیلئے آنے والے نونہالوں کو اسکول کی چھت گرنے کا ڈر ہمیشہ ستاتا رہتا ہے ۔  بارش کے موسم میں یہاں کی چھت سے پانی ٹپکنے لگتا ہے ، جس کی وجہ سے پورے کلاس روم میں پانی ہی پانی بھر جاتا ہے ۔  اسکول کی حالت تو یہ ہوگئی ہے کہ یہاں بچے بنچ پر نہیں بلکہ چٹائی پر بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں ۔

اسکول کے تین کمرے بند

 اس اسکول کے تین کمرے صرف اس لئے بند ہیں کیونکہ مرمت کا کام نہ ہونے کی وجہ سے ذرا سی بارش میں بھی پورے کمرے میں پانی بھر جاتا ہے ، ایسے میں یہاں پڑھنا یا پڑھانا ممکن نہیں ہے ۔

خستہ ہو چکی ہے چھت

 اسکول کی بالکنی پوری طرح خستہ ہو چکی ہے ، جس کی وجہ سے اسکول کے کئی حصوں کے گرنے کا ڈر ہمیشہ ہی بنا رہتا ہے ۔  کوئی حادثہ نہ ہو، اس کے لئے بچوں کو بھی سب سے زیادہ کمزور حصوں میں جانے نہیں دیا جاتا ہے ، اس اسکول کا بیت الخلا دیکھا جائے تو نہ تو یہاں پانی کا انتظام ہے اور نہ صفائی کا ۔  یہاں تک کی بیت الخلاء میں دروازے تک نہیں ہیں ۔

rashidiya-4

خوب ہوتی ہیں چوریاں :

 اسکول میں چہار دیواری  نہ ہونے کی وجہ سے آئے دن یہاں سے سامان چوری ہوتا رہتا ہے ۔ غیر سماجی عناصر اسکول سے پنکھے، لائٹس سب چوری کر لیتے ہیں ، یہاں تک کی بچوں کو صاف پانی دینے کے لئے لگا واٹر کولر بھی چوری ہو چکا ہے ، ایسے حالات میں اب سلامتی کے نقطہ نظر سے بھی یہ اسکول ٹھیک نہیں سمجھا جا رہا ہے ، جو اسکول کے لئے کسی دوہری مار سے کم نہیں ہے ۔

Loading...