شرمناک : خواتین پر تھم نہیں رہے ہیں تیزاب کے حملے ، یوپی پہلے اور مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پر

تیزاب کی فروخت پر پابندی کے باوجود ملک بھر میں خواتین پر تیزاب کےحملے تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں

Aug 21, 2015 11:13 AM IST | Updated on: Aug 21, 2015 11:13 AM IST
شرمناک : خواتین پر تھم نہیں  رہے ہیں تیزاب کے حملے ، یوپی پہلے اور مدھیہ پردیش تیسرے نمبر پر

بھوپال :  تیزاب کی فروخت پر پابندی کے باوجود ملک بھر میں خواتین پر تیزاب کےحملے تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ گزشتہ تین سال میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے معاملے میں دو گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ تیزاب کے  حملوں کی فہرست میں مدھیہ پردیش تیسرے مقام پر ہے. اس فہرست میں اتر پردیش پہلے اورقومی راجدھانی دہلی دوسرے مقام پر ہے ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مدھیہ پردیش میں 2012 اور 2013 میں ایسے 6 ، 6 معاملات درج کئے گئے لیکن 2014 میں یہ اعداد و شمار دوگنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 14 تک پہنچ گئے ۔  صرف مدھیہ پردیش میں ہی نہیں بلکہ پورے ملک میں گزشتہ تین سالوں میں اس طرح کے حملے دوگنا سے بھی زیادہ بڑھے ہیں ۔

سال 2012 میں جہاں تیزاب کے حملوں کے 85 معاملات درج کئے گئے تھے وہیں 2013 میں یہ تعداد بڑھ کر 128 اور 2014 میں 203 ہو گئی ۔ ان حملوں میں 2012 میں 101 خواتین زخمی ہوئی تھیں ، وہیں 2014 میں اس طرح کے واقعات میں 225 خواتین جھلس گئیں ۔

ان اعداد و شمار میں تیزاب کے حملوں کا شکار ہوئی بچیوں اور اس کی وجہ سے موت کی نیند سونے والی خواتین شامل نہیں ہیں ۔ اتر پردیش میں 2014 میں 42 حملوں میں 43 خواتین جھلس گئیں ۔ راجدھانی دہلی میں اس طرح کے 20 معاملات درج کئے گئے ۔

Loading...

بهار اور چھتیس گڑھ جیسی ہندی بولنے والے ریاستوں میں ضرور اس کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ یہاں خواتین پر تیزاب حملوں میں کمی آئی ہے ۔

بهار میں گزشتہ تین سال میں اس طرح کے حملوں 50 فیصد سے زیادہ بھی کمی آئی ہے ۔ چھتیس گڑھ اور جموں و کشمیر میں 2012 میں ایسے تین تین کیس سامنے آئے تھے لیکن 2013 میں اور 2014 میں دونوں ریاستوں میں بالترتیب دو اور ایک اور دو اوردو واقعات سامنے آئے  ۔

Loading...