ویاپم گھوٹالہ : پانچ طلبہ نے صدر جمہوریہ سے رضاکارانہ موت کی اجازت مانگی

بھوپال:مدھیہ پردیش کے مشہور ویاپم گھوٹالے کی زد میں آئے گوالیار کے پانچ طلبہ نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے رضاکارانہ موت کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔

Jul 23, 2015 10:11 PM IST | Updated on: Jul 23, 2015 10:12 PM IST
ویاپم گھوٹالہ : پانچ طلبہ نے صدر جمہوریہ سے رضاکارانہ موت کی اجازت مانگی

بھوپال:مدھیہ پردیش کے مشہور ویاپم گھوٹالے کی زد میں آئے گوالیار کے پانچ طلبہ نے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے رضاکارانہ موت کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یا تو انہیں انصاف دلایا جائے یا پھر انہیں اپنی موت آپ مرنے کی اجازت دی جائے۔ گوالیار کے گجرا راجا میڈیکل کالج کے یہ پانچ طلبہ منیش شرما، راگھویندر سنگھ، پنکج بنسل، امت چڈڈھا اور وکاس گپتا نے پی ایم ٹی 2010کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا۔2013میں پانچوں کو فرضی طریقے سے امتحان پاس کرنے کا ملزم بنایا گیا۔ پانچوں کے ایڈمٹ کارڈ کے فوٹو و دستخط کا لج کےشناختی کارڈسے مبینہ طور پر نہیں ملنے کی وجہ سے انہیں ملزم بنایا گیا تھا۔ صدر سے رضاکارانہ موت کی اجازت دینے کی درخواست کرنے والے ان پانچوں میں سے ایک پنکج نے گوالیار سے فو ن پر بات کرتے ہوئے یو این آئی سے کہا کہ سبھی فارنسک، فنگر پرنٹ اور دوسرے اقسام کی جانچ کے بعد خصوصی تفتیشی ٹیم نے ہم تمام کو سبھی طرح کے الزامات سے بری کر دیا تھا اس کے باوجود کالج انتظامیہ ان کے ساتھ تعصب برت رہی ہے اور انہیں پریشان کیا جارہا ہے۔ ہم تمام کو جانتے ہوئے فیل کر دیا جا تا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد کالج نے انہیں برخواست کر دیا ۔جس کے بعد انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا جہاں سے انہیں اجازت مل گئی۔اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کئے جانے کی بابت پوچھے گئے سوال میں پنکج نے بتایا کہ انہیں اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔حالانکہ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کی جانچ کے دوران ان کا بہت وقت ضائع ہوچکا ہے اور اب ان کی خواہش ہے کہ معاملے کی جانچ جلد ازجلد پوری کر لی جائے تاکہ سب کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ پنکج نے بتایا کہ وہ خود اور ان کے متعدد دوست دیگر قومی مسابقتی امتحانات میں بھی کامیاب ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اپنے گھر کے قریب ہونے کی وجہ سے ریاست کےہی میڈیکل کالج میں داخلے کو ترجیح دی۔

ان کے مطابق انہوں نے و ان کے دوستوں نے صدر سے درخواست کی ہے کہ یا تو انہیں انصاف دلایا جائے یا پھر انہیں رضاکارانہ طور پر مرنے کی اجازت دی جائے۔

Loading...

Loading...