خاتون آئی اے ایس نے سنائی آپ بیتی، میں دعا کرتی ہوں کہ اس ملک میں کوئی خاتون جنم نہ لے

سواني۔ مدھیہ پردیش کے سوني ضلع میں تعینات ایک خاتون آئی اے ایس افسر ریجو بافنا نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ میں صرف یہی دعا کر سکتی ہوں کہ اس ملک میں کوئی خاتون جنم نہ لے ۔

Aug 04, 2015 11:58 AM IST | Updated on: Aug 04, 2015 12:01 PM IST
خاتون آئی اے ایس نے سنائی آپ بیتی، میں دعا کرتی ہوں کہ اس ملک میں کوئی خاتون جنم نہ لے

سواني۔ مدھیہ پردیش کے سوني ضلع میں تعینات ایک خاتون آئی اے ایس افسر ریجو بافنا نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ  میں صرف یہی دعا کر سکتی ہوں کہ اس ملک میں کوئی خاتون جنم نہ لے ۔

خاتون افسر نے گزشتہ ہفتے مدھیہ پردیش انسانی حقوق کمیشن کے افسران کے خلاف جنسی استحصال کی شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے کمیشن کے آیوگ مترسنتوش چوبے کے خلاف فحش میسیج بھیجنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائی تھی، جس کے بعد ملزم کو فوری طور پر عہدہ سے ہٹا دیا گیا۔ خاتون افسر نے اس معاملے میں عدالت میں کیس لڑنے کے دوران اپنا تلخ تجربہ فیس بک پر لکھا ہے۔

Loading...

کورٹ کے واقعہ سے دل برداشتہ ہوکر انہوں نے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ جب میں اپنا بیان درج کرانے عدالت پہنچی تو کمرے میں کئی وکیل بھی موجود تھے۔ اتنے لوگوں کے سامنے بیان دینے کو لے کر میں بے اطمینانی محسوس کر رہی تھی اس لئے میں نے کورٹ سے گزارش کی کہ مجھے اکیلے میں بیان دینے کی اجازت دی جائے۔ اس سے پہلے کہ کورٹ میری گزارش پر فیصلہ لیتا وہاں کھڑے ایک وکیل مجھ پر چلانے لگے۔ انہوں نے مجھ سے بدتمیزی کی اور کہا کہ آپ اپنے گھر میں افسر ہوں گی لیکن کورٹ میں نہیں۔

میں نے ان سے گزارش کی کہ میں ایک افسر نہیں بلکہ عورت ہونے کے ناطے پرائیویسی کی گزارش کر رہی ہوں جس کے ساتھ جنسی حملہ ہوا ہے۔ لیکن وہ پھر بھی بدتميزی کرتے رہے اور چلے گئے۔ اس پورے واقعہ کے دوران معزز مجسٹریٹ خاموشی سادھے رہے اور مجھے اکیلے میں بیان دینے کی گزارش پر کوئی فیصلہ نہیں لیا۔ انہوں نے الٹا مجھ سے کہا کہ تم ابھی نئی ہو، آہستہ آہستہ عدالت کے کام کاج کا طریقہ سمجھ جاؤ گی۔ اب  میں بس یہی دعا کر سکتی ہوں کہ اس ملک میں کوئی خاتون جنم نہ لے یہاں ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے۔

حالانکہ اپنے اس پوسٹ کے بعد خاتون افسر نے ایک نئے پوسٹ میں اپنے پہلے پوسٹ کے لیے افسوس بھی ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے وہ غصے میں لکھ دیا تھا۔ ہم کسی ایک شخص کے لئے پورے ملک کو موردالزام ٹھہرا نہیں سکتے۔ وہیں کانگریس لیڈر ریتا بہوگنا جوشی نے آئی اے ایس افسران کے ساتھ بدسلوکی پر کہا ہے کہ جب آئی اے ایس افسر کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو دیگرعورتوں کے ساتھ کہیں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔

 

 

 

Loading...