உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نجی یونیورسٹی میں 10 دن میں خودکشی سے دوسری موت، 3سال میں 1درجن سے زیادہ خودکشی

    گزشتہ دس دنوں میں خودکشی کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کی اس نجی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ریلوے ٹریک پر سر رکھ کر خودکشی کر لی تھی۔

    گزشتہ دس دنوں میں خودکشی کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کی اس نجی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ریلوے ٹریک پر سر رکھ کر خودکشی کر لی تھی۔

    گزشتہ دس دنوں میں خودکشی کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کی اس نجی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ریلوے ٹریک پر سر رکھ کر خودکشی کر لی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Chandigarh, India
    • Share this:
      چنڈی گڑھ: پنجاب کے پھگواڑہ میں واقع ایک معروف نجی یونیورسٹی میں کیرالہ سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کی خودکشی پر ہاسٹلز کے باہر دیر رات تک احتجاج جاری رہا۔ گزشتہ دس دنوں میں خودکشی کا یہ دوسرا معاملہ ہے۔ اس سے قبل ہریانہ کی اس نجی یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے ریلوے ٹریک پر سر رکھ کر خودکشی کر لی تھی۔ اگر ہم 2017 سے 2019 کے درمیان یعنی کورونا وبا سے پہلے کی بات کریں تو اس نجی یونیورسٹی کے ایک درجن طلباء خودکشی کر چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ یہ تمام طلبا ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔

      10 دنوں میں دوسری خودکشی
      دس روز قبل ریلوے ٹریک پر خودکشی کرنے والی ہریانہ کی طالبہ کافی دنوں سے ذہنی طور پر پریشان تھی۔ اس کے ساتھ ہی منگل کو خودکشی کرنے والے کیرالہ کے بزنس مینجمنٹ کے ایک طالب علم کے کمرے سے ایک سوسائڈ نوٹ ملا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ذاتی وجوہات کی وجہ سے خودکشی کر رہا ہے۔ پولیس اب ان ذاتی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے پھگواڑہ کے سول اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ متوفی طالب علم ایجن ایس دلیپ کیرالہ کا رہنے والا تھا۔ طالب علموں کو جب اپنے ساتھی طالب علم کی خودکشی کا علم ہوا تو وہ جارحانہ ہو گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہاسٹل میں ایمبولینس دیر سے پہنچی۔ طلباء کا اس بات پر بضد تھے کہ انہیں خودکشی کی وجوہات سے آگاہ کرایا جائے۔
      موڈ سوئنگ بھی ہو سکتی ہے Suicide کی علامت، جانئے ماہرین کی رائے

      اکیلے رہ کر خواتین ایسے لیں زندگی کا مزہ، نہیں محسوس ہوگی کسی کی کمی


      دیر رات یونیورسٹی میں احتجاج
      طلباء نے دیر رات یونیورسٹی کے مین گیٹ سے باہر آنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ہلکی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہاسٹل بھیج دیا۔ اس کے بعد آج یعنی بدھ کی صبح اس سے پہلے کہ طلبا کچھ کرتے، یونیورسٹی کیمپس میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں طلباء کی جانب سے خودکشی کے واقعات تشویشناک ہیں اور انہیں اپنے حوصلے بلند کرنے کے لیے کونسلنگ کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے مسائل انسٹی ٹیوٹ اور والدین سے شیئر کر سکیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: