ہوم » نیوز » No Category

محض 8 سال میں ملک سے ختم ہوگئے 61 فیصدی گدھے، جانچ کے لئے اٹھی آواز

ملک میں مویشیوں کی مردم شماری میں حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سال 2019 میں ہوئی مردم شماری سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں گھوڑے، گدھے اور خچروں کی کل آبادی میں بھاری کمی آئی ہے۔ سال 2012 کی مردم شماری کے مقابلے ان کی تعداد میں 51.9 کی کمی دیکھی گئی ہے۔

  • Share this:
محض 8 سال میں ملک سے ختم ہوگئے 61 فیصدی گدھے، جانچ کے لئے اٹھی آواز
محض 8 سال میں ملک سے ختم ہوگئے 61 فیصدی گدھے، جانچ کا مطالبہ

نئی دہلی: ملک میں مویشیوں کی مردم شماری میں حیران کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ سال 2019 میں ہوئی مردم شماری سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں گھوڑے، گدھے اور خچروں کی کل آبادی میں بھاری کمی آئی ہے۔ سال 2012 کی مردم شماری کے مقابلے ان کی تعداد میں 51.9 کی کمی دیکھی گئی ہے۔ وہیں گدھوں کی بات کریں تو اعدادوشمار اور بھی مایوس کن ہے۔


گدھوں کی کل تعداد مویشیوں کی مردم شماری 2019 کے مطابق 1.2 لاکھ ہے، جو کہ 2012 میں ہوئی اس کی مردم شماری کے مقابلے میں 61.23 فیصد کم ہے۔ یہ حیران کرنے والی بروک انڈیا کی ہیڈ برائے خارجہ امور اور مواصلات جوت پرکاش کور نے دی ہے۔


جوت پرکاش کور کے مطابق، اعدادوشمار کا موازنہ کرنے سے پتہ چلا ہے کہ گدھے کی آبادی میں سب سے زیادہ گراوٹ آئی ہے اور یہ سنگین اس لئے ہے کیونکہ یہ معاملہ چینی بازاروں میں گدھے کی چربی سے بنے ’ایجیو‘ کے ایکسپورٹ سے منسلک ہے۔ چین میں ایجیو کی اس بھاری مطالبہ کی وجہ سے دنیا میں گدھوں کی تعداد کافی کم ہوگئی ہے اور ہندوستان میں گدھوں کی کم ہوتی تعداد کی بھی اسی لئے جانچ کی ضرورت بتائی گئی ہے۔


واضح رہے کہ غریب طبقے کے لئے گدھوں کی افادیت کافی زیادہ ہے۔ اسی بات کے لئے ان کی کام کرنے والے گدھوں/ خچروں/ گھوڑوں کا کردار ان کے ذریعہ معاش کے لئے اہم ہے، حال ہی میں نئی ​​دہلی میں بروک انڈیا اینیمل ویلفیئر ایسوسی ایشن نے میڈیا کو اس بارے میں آگاہ کرنے کے لئے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی معیشت میں کام کرنے والے گھوڑوں کی پرجاتیوں کے شراکت کا صحیح مطالعہ نہیں کیا گیا ہے اور میڈیا میں بھی اس مسئلے پر زیادہ بحث نہیں کی جاتی ہے۔
لائیو اسٹاک مردم شماری 2019 میں ان کی گھٹتی ہوئی آبادی (0.55 ملین) کے باوجود، کام کرنے والے گھوڑے، گدھے اور خچر غریب اور پسماندہ طبقے کی دیہی برادریوں کے ذریعہ معاش کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ جانور اینٹ کے بھٹوں، تعمیرات، سیاحت، زراعت اور مال بردار نقل و حمل کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ لوگوں کی آمدورفت میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ان گھوڑوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بنیاد پر، یہ لوگ اپنے بچوں کی تعلیم اور اپنے گھر کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔ اتنے اہم ہونے کے باوجود، ملک میں پلنے والے جانور پالنے کی پالیسیاں گائے اور بھینسوں کو مدنظر رکھی جاتی ہیں اور گھوڑوں کی ذات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 28, 2021 09:27 PM IST