کبھی تھے پچیس ہزار کے انعامی بدمعاش، آج بی جے پی کے ٹکٹ پر ہیں شاہ پور سے امیدوار

پٹنہ : بہار کی سیاست اور باہوبلی ایک دوسرے کے چولی دامن ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیاست میں دبنگوں اور باہو بلیوں کیلئے ہمیشہ سے ہی خاص جگہ رہی ہے۔

Sep 20, 2015 12:13 PM IST | Updated on: Sep 20, 2015 12:13 PM IST
کبھی تھے پچیس ہزار کے انعامی بدمعاش، آج بی جے پی کے ٹکٹ پر ہیں شاہ پور سے امیدوار

پٹنہ : بہار کی سیاست اور باہوبلی ایک دوسرے کے چولی دامن ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سیاست میں دبنگوں اور باہو بلیوں کیلئے ہمیشہ سے ہی خاص جگہ رہی ہے۔ ایسے میں اگر بہار کے بھوجپور ضلع کی بات کریں تو جرم کے ساتھ سیاست کے کنکشن کے معاملے میں بھی اس ضلع کی اپنی شناخت ہے۔ حالیہ دنوں کی بات کریں تو پانڈے برادران یعنی سنیل پانڈے اور هلاس پانڈے کے بعد اب ایک اور باہو بلی نے سیاست میں انٹری کی ہے اور اس انٹری کیلئے بی جے پی نے راہ ہموار کی ہے۔

کبھی پچیس ہزار روپے کے انعامی باہو بلی رہ چکے اس شخص کا نام وشیشور اوجھاہے ۔ وشیشور کی شناخت کبھی ديارا کی دہشت کی شکل میں ہوتی تھی ، لیکن اس مرتبہ بی جے پی نے اسے شاہ پور سے ٹکٹ تھما کر اس کی سیاست میں انٹری کا راستہ کھول دیاہے ، جس سے سیاست اور غنڈہ گردی کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہونے والی بات پر ایک بار پھر مہر لگ گئی ہے۔

وشیشور اوجھاکون ہے ؟

بھوجپور ضلع کے شاہ پور ڈویژن سے متصل اوجھوليا گاؤں کے برہمن خاندان میں پیدا ہوئے وشیشور اوجھا کی شناخت آج ان کے علاقے میں کئی شکل میں ہوتی ہے۔ کوئی انہیں دبنگ تو کوئی بابا اور کوئی نیتاجی کہتا ہے۔ دو بھائیوں میں سب سے بڑ اور انٹر تک تعلیم یافتہ وشیشور نے کاروبار میں بھی قسمت آزمائی ، لیکن اسے اصلی شناخت جرم کی دنیا سے ملی۔ وشیشور کو اپنے علاقے میں زمین پر قبضہ کرنے کے لئے بھی جانا جاتاہے۔ سون برسا اور دیار کے علاقوں میں ایک دہشت کے طور پر پہچانے جانے والے شیواجيت مشرا سے وشیشور کی دوستی اور دشمنی دونوں ہی موضوع بحث رہتی ہے۔ دونوں نے مل کر پہلے زمین پر قبضہ جمانا شروع کیا۔ تاہم بعد میں دونوں میں دشمنی ہو گئی۔

Loading...

سیاست میں بھی گہری ہے گرفت

وشیشور اوجھا جرم کے دنیا میں نام کمانے کے بعد گزشتہ 15 سالوں سے سیاست میںبھی بالواسطہ طور پر متحرک ہیں ۔ سب سے پہلے 2000 میں انہوں نے پنچایتی انتخابات کے راستے اپنے خاندان کی سیاست میں انٹری کرائی اس کے بعد پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وشو جیت نے 2005 کے انتخابات میں اپنی بیوی شوبھا دیوی کو شاہ پور سیٹ سے جے ڈی یو کا ٹکٹ دلوایا، لیکن وہ الیکشن ہار گئی۔ 2005 کے ہی دوسرے اسمبلی انتخابات میں وشیشور نے اپنی طاقت کے زور پر اپنے چھوٹے بھائی کی بیوی منی دیوی کو نہ صرف ٹکٹ دلوایا بلکہ انتخابات میں جیت دلا کر علاقے کے لوگوں کو اپنی سیاسی طاقت کا بھی احساس کرایا۔ منی دیوی 2010 کے انتخابات میں بھی شاہ پور کی سیٹ جیت کر وشیشور کے رعب کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔

وشیشور کی دہلی سے ہوئی تھی گرفتاری

وشیشور اوجھا نے 1990 میں ہی بندوق اٹھا لی تھی ۔ اس پر قتل، پولیس فورس پر حملہ اور فائرنگ سمیت کل 15 سے زیادہ مقدمات درج ہوئے تھے۔ وشیشور پر بہار سے باہر جھارکھنڈ کے دھنباد میں بھی کیس درج ہوا تھا۔ وشیشور اوجھا کے مجرمانہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے سال 2002 میں ان کی گرفتاری پر 25 ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ وشیشور اوجھا کو 2006 میں دہلی کے سروجنی نگر سے اسپیشل برانچ کی ٹیم نے گرفتار کیا تھا۔

انتخابات میں ملی تھی شکست

وشیشور اوجھا نے اسمبلی کا ٹکٹ حاصل کرنے سے پہلے سال 2013 میں آرا -بکسر نگرنگم کے ودھان پریشد کا الیکشنبھی لڑا تھا۔ اس الیکشن میں اس کا مقابلہ سنیل پانڈے کے بھائی اور دبنگ هلاس پانڈے سے تھا، جس کی وجہ وشیشور کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے بعد سے ہی سمجھا جا رہا تھا کہ وشیشور 2015 کے انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر شاہ پور سے انتخابی میدان میں اترے گا ۔

سشیل مودی کو سمجھا جاتا ہے وشیشور کا سیاسی گاڈ فادر

بہار کی بی جے پی یونٹ میں وشیشور اوجھا کا خاصا دبدبہ ہے۔ سیاست میں سشیل کمار مودی کو ان کا گاڈ فادر سمجھا جاتا ہے۔ اسمبلی الیکشنلڑنے سے پہلے اوجھا پارٹی کے مختلف سیل سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے آرا دورے کے دوران بھی وشیشور ان لوگوں میں شمار تھے جنہیں وزیر اعظم کا استقبال کرنے کا موقع ملا ۔

اعلی طبقے کے ووٹوں کا ہے یقین

شاہ پور علاقے میں برہمن سمیت اعلی ذات کے لوگوں کے ووٹوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ علاقے میں وشیشور کی شناخت کے ساتھ ساتھ اعلی ذات کے ووٹروں پر بھی ان کی اچھی گرفت ہے۔ 2005 اور 2010 کے انتخابات میں وشیشور کے بھائی کی بیوی منی دیوی کو شاہ پور سیٹ جیتنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ ایسے میں اس بار بھی وشیشور کو اعلی ذات کا ووٹ ملنے کا یقین ہے۔

Loading...