نتیش نے رپورٹ کارڈ پیش ، کہا : ریاست میں قائم کیا قانون کا راج

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے پیر کو گزشتہ دس سال کا رپورٹ کارڈ پیش کیا

Jul 27, 2015 01:35 PM IST | Updated on: Jul 27, 2015 05:55 PM IST
نتیش نے رپورٹ کارڈ پیش ، کہا :  ریاست میں قائم کیا قانون کا راج

بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے اسمبلی انتخابات سے قبل رائے دہندگان کو راغب کرنے کیلئے آج شہریوں کو عوامی شکایات کے حل کا قانونی حق دینے اور کانٹریکٹ ٹیچروں کو تنخواہ دینے سمیت کئی دیگر اعلانات کئے۔ مسٹر کمار نے یہاں سمواد بھون میں اپنی حکومت کے 10 سال کی کارکردگی کا رپورٹ کارڈ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے شہریوں کو عوامی شکایات کے حل کا قانونی حق دینے کیلئے آئندہ سیشن میں ایک بل لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی حکومت نے پنچایتی راج اداروں کے توسط سے کانٹریکٹ کے تمام تربیت یافتہ، غیرتربیت یافتہ، بنیادی، سکنڈری، ہائر سکنڈری اسکولوں کے ٹیچر اور لائبریریئن کو یکم جولائی 2015 سے تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی نے تمام کانٹریکٹ ٹیچر، ٹولا سیوک، شکشا متر، آشا کارکن، ممتا، آنگن باڑی سیویکا، سہائیکا، اسکول میں باور چی، کانٹریکٹ پر کام کرنے والے جونیئر انجینئر اور ڈاکٹر، کسان ایڈوائزر، زرعی کوآرڈینیٹر، ڈاٹا انٹری آپریٹر، ایکزیکٹو اسسٹنٹ اور آئی ٹی منیجر کی نوکری کے دوران موت ہونے پر ان پر منحصر قریبی رشتہ داروں کو چار لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا رقم دیئے جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کسان صلاحکار کے بھتہ میں دو ہزار اور ٹولہ سیوک اور شکشا متر کے بھتوں میں تین ہزار روپئے کا اضافہ کئے جانے کا بھی اعلان کیا۔

قبل ازیں مسٹر کمار نے اپنی حکومت کی 10 سال کی کارکردگی کا شمار کراتے ہوئے کہا کہ 2005 میں جب ان کی حکومت بنی تھی تب اس نے بہتر حکمرانی کا پروگرام طے کیا تھا جسے نافذ کرنے میں وہ کامیاب رہے۔ کئی معاملوں میں تو اس سے بھی بڑھ کر منصوبے بنائے گئے اور اس پر عمل درآمد کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ریاست میں امن و امان بحال کرنا اور اعتماد کا ماحول بنانا تھا۔

Loading...

وزیر اعلی نے کہا کہ انصاف کے ساتھ ترقی ان کی حکومت کے رہنما اصول رہے ہیں۔ ریاست میں انہوں نے قانون کی حکمرانی قائم کی جس سے عوام کے اعتماد و یقین میں اضافہ ہوا اور ڈر ختم ہوگیا۔ پہلے جو لوگ بہار آنے سے ڈرتے تھے، وہ اب بہار آنے کے خواہاں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار آنے والوں کااب پہلا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ بہار بدل گیا ہے جبکہ پہلے عام خیال یہ تھا کہ بہار بدل نہیں سکتا۔

مسٹر کمار نے کہا کہ یہ بات یقینی بنائی گئی کہ سماج کے ہر طبقے کو فائدہ حاصل ہو اور اس میں ان کی شراکت داری ہو۔ ان کی حکومت چاہتی تھی کہ نصف آبادی کو نصف حصہ داری ملے، اس لئے عورتوں کو پنچایتی راج نظام میں 50 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ اسی طرح ان کی حکومت نے تعلیم پر زور دیا جس کے سبب نہ صرف خواندگی کی شرح میں اضافہ ہوا بلکہ ایک دہائی (2001 سے 2011) میں خواتین کی خواندگی کی شرح میں پورے ملک میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جس کیلئے بہار کو قومی ایوارڈ بھی ملا۔

Loading...