جیلوں میں بند خطرناک مجرمین کر رہے ہیں سوشل ویب سائٹس کا استعمال

بیتیا: سوشل ویب سائٹ کا استعمال اب صرف معلومات تبادلے کے تک نہیں رہ گیا ہے ، بلکہ اب اس کے ذریعہ بدنام مجرمین اپنے گروہ کی توسیع بھی کر رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ سلاخوں کے باہر رہ کر معاشرے میں دہشت پھیلانے والے مجرم اب سلاخوں کے اندر سے بھی جرائم کو انجام دے رہے ہیں۔

Dec 31, 2015 11:12 PM IST | Updated on: Dec 31, 2015 11:12 PM IST
جیلوں میں بند خطرناک مجرمین کر رہے ہیں سوشل ویب سائٹس کا استعمال

بیتیا: سوشل ویب سائٹ کا استعمال اب صرف معلومات تبادلے کے تک نہیں رہ گیا ہے ، بلکہ اب اس کے ذریعہ بدنام مجرمین اپنے گروہ کی توسیع بھی کر رہے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ سلاخوں کے باہر رہ کر معاشرے میں دہشت پھیلانے والے مجرم اب سلاخوں کے اندر سے بھی جرائم کو انجام دے رہے ہیں۔

بہار میں دن پر دن بڑھ رہے جرائم کے واقعات نے حکومت سے لے کر انتظامیہ تک کی نیند اڑا کر رکھ دی ہے۔ ایک طرف انتظامیہ ان پر لگام لگانے کے لئے ہر طرح سے دباؤ بنا رہی ہے ، تو وہیں مجرمین بھی واقعہ کو انجام دینے کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں۔ آج کل منظر عام پر آرہی نت نئی ٹیکنالوجی کا فائدہ مجرمین بھی جم کر اٹھا رہے ہیں ۔سوشل سائٹ معاشرے میں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کے لئے ہیں ، لیکن مجرمین اس کا غلط استعمال کرنے سے باز نہیں آ رہے ہیں۔

بیتیا کی جیل میں اس وقت کئی خطرناک مجرمین بند ہیں ، لیکن وہ صرف نام کے لیے بند ہیں ۔ویسے وہ یہاں اتنے ہی آزاد ہیں ، جتنا وہ سلاخوں کے باہر رہتے ہیں۔یہاں عالم یہ ہے کہ مجرمین جیل سے ہی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں کے ذریعے نہ صرف اپنے گروہ کی توسیع کر رہے ہیں ، بلکہ معاشرے میں دہشت پھیلانے کا بھی کام کر رہے ہیں ۔

اتنا ہی نہیں موتیہاری جیل میں بند ایک مجرم نے سوشل ویب سائٹ کے اپنے پروفائل میں جیل کے وارڈ کا نمبر تک لکھ دیا ہے۔اس سے بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ بیتیا سیکشن جیل میں بند کچھ مجرموں نے گینگ آف بانوچھاپور بنایا ہے۔ سوشل سائٹ کے ذریعے نوجوانوں کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ یہ مجرمین کھلے عام لوگو میں دہشت پھیلا رہے ہیں ۔ ان سب کے درمیان سب سے حیرت کی بات ہے کہ ان مجرموں کے پروفائل کے جہاں سینکڑوں فالوور ہیں ، وہیں ان کی فرینڈ لسٹ میں سیاسی لیڈران اور ڈاکٹر س سے لے کر صحافی تک پائے جاتے ہیں ۔

Loading...

تعجب کی بات یہ ہے کہ پولیس انتظامیہ ان سب کی معلومات ہوتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔کہنے کے لئے تو انتظامیہ کی طرف سے کبھی کبھی جیل میں چھاپہ ماری کی جاتی ہے ، لیکن چھاپہ ماری کے دوران ان حرکتوں پر انتظامیہ کی نظر تک نہیں پڑتی ہے۔ اگر وقت رہتے ایسےمجرموں پر کارروائی نہیں کی گئی تو ہو سکتا ہے کہ سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کےذریعہ آئی ایس آئی جیسے خطرناک دہشت گرد تنظیموں کے تار بھی ان کے ساتھ جڑ سکتے ہیں ۔

Loading...