ٹرک پر پریس لکھ کر اور گلے میں آئی کارڈ لٹکا كر انٹری مافیا بن گیا رپورٹر

گیا: دہلی سے کولکاتہ جانے والی گرینڈ ٹرنک روڈ پر متحرک انٹری مافیا اب میڈیا کے نام کا غلط استعمال کر کے حکومت کو کروڑوں روپے کے ٹیکس کا چونا لگا رہے ہیں۔

Nov 25, 2015 08:16 PM IST | Updated on: Nov 25, 2015 08:17 PM IST
ٹرک پر پریس لکھ کر اور گلے میں آئی کارڈ لٹکا كر انٹری مافیا بن گیا رپورٹر

گیا: دہلی سے کولکاتہ جانے والی گرینڈ ٹرنک روڈ پر متحرک انٹری مافیا اب میڈیا کے نام کا غلط استعمال کر کے حکومت کو کروڑوں روپے کے ٹیکس کا چونا لگا رہے ہیں۔ اس روڈ پر مال ڈھونے والے ٹرک پر پریس اور میڈیا سائٹ کا نام لکھ کر کھلے عام آمدو رفت کی جا رہی ہے اور اس میں سوار ڈرائیور پریس لکھا ہوا لباس اور شناختی کارڈ لے کر چلتے ہیں اورجب کسی انٹری پوائنٹ پر ان کی گاڑی کو روکا جاتا ہے ، تو وہ ميڈيااہلکار ہونے کا دھونس جماتے ہیں اور اپنے صاحب سے فون پر بات کرتے ہیں ۔ پھر انٹری پوائنٹ پر تعینات افسران بھی انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔

ذرائع سے ملی معلومات کے مطابق میڈیا پریس کارڈ اور وردی کے نام پر انٹری مافیا گروہ پیسے وصولتا ہے اور پھر گاڑی مالک سے بھی ہر گاڑی پر مقرر کردہ رقم کی وصولی کرتا ہے۔ ڈرائیور وردی اور شناختی کارڈ کے سہارے دہلی سے سامان سے بھرا ٹرک انٹری فیس ادا کئے بغیر کولکاتہ تک پہنچ جاتا ہے۔

گاڑی روکے جانے پر وہ موبائل سے کسی سے بات کرتا ہے اور پھر افسران بھی اس پر کوئی کارروائی کرنے کی بجائے اسے جانے دیتے ہیں۔ گلے میں پریس رپورٹر کا کارڈ لٹکائے ہوئے یہ ڈرائیور اگرچہ رپورٹنگ کا مطلب بھی نہیں جانتے ہوں ، مگرمیڈیا میں ایمانداری سے کام کرنے والے نمائندوں کی ساکھ پر بٹہ لگانے میں ضرور اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

غور طلب ہے کہ جی ٹی یعنی گرینڈ ٹرنك روڈ پر انٹری مافیا اپنے کاروبار کے طریقے میں وقتا فوقتا تبدیلی کرتا رہتا ہے۔ پہلے ڈرائیور کو كورڈ ورڈ دیا جاتا تھا اور وہ كورڈ ورڈ ڈرائیور انٹری پر تعینات افسران کو سناتا تھا ، جس کے بعد کسی جانچ کے بغیر گاڑی آگے بڑھ جاتی تھی اور متعلقہ افسر کو اس کا حصہ مل جاتا تھا۔

Loading...

گزشتہ سال مگدھ کے ڈی آئی جی کے طور پر عہدہ سنبھالنے والے کمار شالین نے انٹری مافیا کے خلاف مہم چلائی تھی ، جس کی وجہ بہار سے گزرنے والے جی ٹی روڈ کے روہتاس سے گیا تک انٹری مافیا میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ لیکن بعد میں ان کا پٹنہ ڈی آئی جی کے طور پر ٹرانسفر کر دیا گیا تھا ، جس کے بعد سے کہا جانے لگا تھا کہ انٹری مافیا کی رسائی اوپر تک ہے۔

اب دیکھنا ہے کہ میڈیا کے نام پر جاری انٹری مافیا کا کھیل کب تک چلتا رہتا ہے اور اس پر کارروائی کی پہل کون کرتا ہے۔

Loading...