ہائی کورٹ نے گرام سبھاوں کے فیصلے پر لگائی روک ، غیر ہندو بھی بستر میں کر سکتے ہیں اپنے مذہب کی تشہیر

درگ : چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے اپنے ایک عبوری حکم میں گرام سبھاؤں کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے اس کے اس فیصلے پر روک لگادی ہے

Oct 15, 2015 05:47 PM IST | Updated on: Oct 15, 2015 05:47 PM IST
ہائی کورٹ نے گرام سبھاوں کے فیصلے پر لگائی روک ، غیر ہندو بھی بستر میں کر سکتے ہیں اپنے مذہب کی تشہیر

درگ : چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے اپنے ایک عبوری حکم میں گرام سبھاؤں کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے اس کے اس فیصلے پر روک لگادی ہے ، جس میں غیر ہندو مذہب کی تشہیر یا عبادت کی ادائیگی پر روک لگا دی گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ بستر کے سرس گڈا میں گرام سبھا نے سب سے پہلے یہ پابندی لگائی تھی کہ پنچایت کے تحت آنے والے علاقے میں ہندو مذہب کے علاوہ کسی بھی دوسرے مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کی تشہیر کرنے یا اپنی عبادت کی ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی ۔ اس کے بعد کم از کم 52 گرام سبھاؤں نے بھی یہ تجویز منظور کی تھی ،جس کے وجہ سے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو کافی پرپشانیاں ہورہی تھیں اور ان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے میں بھی دقتیں پیش آرہی تھیں ۔

گرام سبھاوں کے اس فیصلے کے خلاف چھتیس گڑھ عیسائی فورم نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، سال بھر بعد بھی اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اس ماہ ہائی کورٹ میں منندر موہن شریواستو کی عدالت نے بنیادی حقوق کی حفاظت کو اہم قرار دیتے ہوئے گرام سبھاؤں کے فیصلے کو نافذ نہیں کئے جانے کی ہدایت دی ۔ معاملے کی اگلی سماعت نومبر میں ہوگی۔

چھتیس گڑھ عیسائی فورم کے ارون پنالال نے کہا ہے کہ عدالت کے اس عبوری حکم نے عیسائی برادری کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔

Loading...

Loading...