உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    WHO: ہندوستان میں 2020 میں اموات کے اعداد و شمار جاری، WHO کی رپورٹ پر تنقید

    ’’اومی کرون ویرینٹ کے ظہور نے عالمی توجہ حاصل کی ہے‘‘۔

    ’’اومی کرون ویرینٹ کے ظہور نے عالمی توجہ حاصل کی ہے‘‘۔

    کچھ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ ہندوستان میں کووڈ۔19 سے مرنے والوں کی اصل تعداد 40 لاکھ ہے، جو کہ سرکاری اعداد و شمار سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے، خاص طور پر گزشتہ سال اپریل اور مئی میں ڈیلٹا ویرینٹ کے ذریعے چلنے والی ریکارڈ لہر نے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا۔ ڈبلیو ایچ او کا تخمینہ جمعرات کو شائع کیا جائے گا۔

    • Share this:
      ہندوستان میں گزشتہ سال کے مقابلے 2020 میں تقریباً 475,000 کل اموات درج کی گئی ہیں۔ منگل کے روز شیڈول سے مہینوں پہلے جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس (COVID-19) سے زیادہ اموات کے اپنے تخمینے تیار کیے ہیں جس کے طریقہ کار کی نئی دہلی نے مخالفت کی ہے۔

      کچھ ماہرین کا تخمینہ ہے کہ ہندوستان میں کووڈ۔19 سے مرنے والوں کی اصل تعداد 40 لاکھ ہے، جو کہ سرکاری اعداد و شمار سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے، خاص طور پر گزشتہ سال اپریل اور مئی میں ڈیلٹا ویرینٹ کے ذریعے چلنے والی ریکارڈ لہر نے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا۔  ڈبلیو ایچ او کا تخمینہ جمعرات کو شائع کیا جائے گا۔

      مزید پڑھیں: راج ٹھاکرے کی مشکلات میں ہوگا اضافہ؟ پہلے سے ہی جاری ہے غیر ضمانتی وارنٹ

      ایک اعلیٰ سطح کے اہلکار ونود کمار پال، جنھوں نے وبائی امراض کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی نگرانی کی ہے، نے کہا کہ 2020 کے لیے موت کے کل اعداد و شمار میں کچھ بھی ڈرامائی نہیں تھا اور وہ مطلق، درست اور صحیح گنتی کی تعداد تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2020 میں ہندوستان میں 8.1 ملین کی کل اموات ظاہر کرنے والے اعداد و شمار کو رجسٹرار جنرل کے دفتر نے دو سے تین ماہ قبل جاری کیا تھا کیونکہ ملک کے کوویڈ ٹول پر توجہ دی گئی تھی۔

      مزید پڑھیں: عید پر Rani chatterjee نے پیلی ڈریس میں لوٹی محفل، دیکھیں تصاویر

      انہوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ مختلف ماڈلنگ اندازوں کی بنیاد پرمیڈیا میں ایک عوامی بیانیہ ہے۔ ہندوستان میں COVID-19 میں ہونے والی اموات رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہیں - حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔

      ملک بھر میں کورونا Coronavirus ایک بار پھر دستک دے رہا ہے۔ پریشانی کی بات یہ ہے اس بار اس کی زد میں بچے زیادہ آرہے ہیں۔ بچوں کے اسکول اب آف لائن موڈ پر آچکے ہیں۔ ایسے میں بچوں کے ساتھ ساتھ سرپرستوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ والدین کا کہنا کہ حکومت کو ایس او پی میں کچھ بدلاؤ کرنا چاہئے اور ضرورت پڑے تو ایک پھر اسکولوں کو آن لائن موڈ میں لانا چاہئے۔

      کورونا کے کیسیس میں لگاتار اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں کورونا کے دوہزار نو سو ستائیس معاملے سامنے آئے۔جبکہ اس دوران دو ہزار دو سو باون لوگوں کو اسپتال سے چھٹی دیدی گئی ہے۔گمشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کی وجہ سے بتیس افراد کی جان گئی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: