ہوم » نیوز » No Category

نیپال نے بغیر کسی ثبوت کے نئے نقشے کو دی منظوری، اب ڈاکیومینٹ تلاشنے کیلئے بنائی ٹیم

نیپال (Nepal) کی حکومت نے ملک کے نئے نقشے کو منظوری دے دی ہے۔ سنیچر کو نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے ملک کے نئے نقشے پر پیش کردہ ترمیمی بل کو منظوری دے دی۔

  • Share this:
نیپال نے بغیر کسی ثبوت کے نئے نقشے کو دی منظوری، اب ڈاکیومینٹ تلاشنے کیلئے بنائی ٹیم
نیپال (Nepal) کی حکومت نے ملک کے نئے نقشے کو منظوری دے دی ہے۔ سنیچر کو نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے ملک کے نئے نقشے پر پیش کردہ ترمیمی بل کو منظوری دے دی۔

نیپال (Nepal)  کی حکومت نے ملک کے نئے نقشے کو منظوری دے دی ہے۔ سنیچر کو نیپال کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے ملک کے نئے نقشے پر پیش کردہ ترمیمی بل کو منظوری دے دی۔ اب اسے نیشنل اسمبلی میں بھیجا جائے گا۔ جاں ایک مرتبہ پھر اس نقشے کو ہری جھنڈی ملنا طے ہے۔ اقتداری نیپال کمیونسٹ پارٹی کے پاس یہاں دو تہائی اکثریت ہے۔ نئے نقشے میں نیپال نے ہندستان کے کئی علاقوں کو اپنا بتایا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ کہا نیپال کے پاس ثبوت ہے کہ وہ ہندستان کے علاقو پ عویٰ ٹھوک سکے؟ بالکل نہیں۔


اب تلاش کریں گے کاغذ

دراصل نیپال بھی یہ خود مان رہا ہے کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ نئے نقشے کو ایوان میں پاس کرنے کے بعد نیپال کی حکومت نے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ اس کمیٹی سے کہا گیا ہے کہ وہ ان ڈاکیومینٹ کی تلاش کرے جو ثابت کرسکیں کہ جن علاقوں پر نیپال نے دعویٰ کیا ہے۔ یہ کسی بھی حکومت کا بڑا ہی مضحکہ خیز اقدام ہے۔ اس کمیٹی میں نو لوگوں کو رکھا گیا ہے جس کی قیادت وشنو راج اپریتی کرین گے۔ وہ فی الحال حکومت کی پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔

کمیٹی بنانے کے فیصلے کو لیکر نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کی مقامی میڈیا میں تنقید ہورہی ہے۔ وہاں کے کئی ایکسپرٹ اور لیڈڑان کا کہنا ہے کہ کمیٹی بنانا نیپاک کے حق کو اور کمزور کرتا ہے۔ نیپال کے مشہو و معروف کارٹوگرافر بدھی نارائن شریشٹھ نے نیپالی اخبار کاٹھ مانڈو پوسٹ سے بات چیت میں کہا کہ اگر حکومت کے پاس پہلے سے ثبوت نہیں تھے تو پھر آخر کیوں جھوٹ دعوے کئے گئے۔ وہیں سابق سفیر دنیش بھٹرائی نے کہا کہ  ٹیم بنانے کا مطلب یہ ہے کہ گھوڑے کے آنے سے پہلے ہی آپ نے گاڑی تیار کر لی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب بات چیت ہوتی ہے تو پھر ہندستان کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔

ہندوستان نے کہا- ہم نے کی نیپال کی مدد
اس درمیان انوراگ شریواستو نے کووڈ-19 وبا سے لڑنے میں ہندوستان کے ذریعہ نیپال کو دی جانے والی مدد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے نیپال کو تقریباً 25 ٹن میڈیکل اشیا فراہم کی ہے، جس میں پیراسیٹا مال اور ہائیڈروکسیکلوروکین دوائیں، چیک اپ کٹ اور دیگر میڈیکل سے جڑی اشیا شامل ہیں’۔ نیپال ان ممالک کی پہلی فہرست میں تھا، جن کے لئے ہندوستان نے لائسنس کلاس میں لے جانے کے بعد HCQ کے ایکسپورٹ کو منظوری دے دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان نے انسانی بنیاد پر بیرون ملک میں پھنسے نیپالی شہریوں کو واپس لانے میں مدد کی تھی۔ سب سے ضروری، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہندوستانی حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہےکہ دونوں طرف سے جاری لاک ڈاون کے باوجود نیپال کو تجارت اور ضروری اشیا کی سپلائی میں کوئی ناخوشگوار مداخلت نہ ہو۔
سال 2015 میں ہوا تھا اختلاف

سال 2015 میں سپلائی میں ہوئی رکاوٹ کے بعد ہندوستان اور نیپال کے درمیان ایک سنگین اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ ہندوستان نے اس بات سے انکار کیا تا کہ اس نے نیپال کے خلاف کسی بھی ناکہ بندی کی گزارش کی تھی اور مسلسل اس بات پر زور دیا تھا کہ مدھیش کے مظاہرین نے سرحدوں کو روک دیا ہے، جس سے ہندوستان میں ضروری اشیا والے ٹرکوں کی سپلائی میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ حالانکہ نیپال نے ہندوستان پر ایک اقتصادی ناکہ بندی کی طرف بڑھنے کا الزام لگایا، جس کے بعد اس کی پہاڑی آبادی جو ہندوستان سے رسوئی گیس اور دیگر ضروری اشیا کی سپلائی پر منحصر تھی، اس کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔
First published: Jun 14, 2020 09:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading