ہوم » نیوز » No Category

جھارکھنڈ : سی اے اے اور این آر سی مخالف دھرنے کو ملی سیاسی اور سماجی کارکنان کی حمایت

دھرنے میں مختلف مذاہب کے سماجی و سیاسی کارکنان کے علاوہ الگ الگ شعبہ کے ماہرین بھی شرکت کر رہے ہیں اور دھرنا میں شامل خواتین سے خطاب کر کے ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔

  • Share this:
جھارکھنڈ : سی اے اے اور این آر سی مخالف دھرنے کو ملی سیاسی اور سماجی کارکنان کی حمایت
جھارکھنڈ : سی اے اے اور این آر سی مخالف دھرنے کو ملی سیاسی اور سماجی کارکنان کی حمایت

رانچی کے کڈور میں واقع حج ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا کا سلسلہ جاری ہے ۔ دہلی کے شاہین باغ کے طرز پر گزشتہ 20 جنوری سے جاری اس دھرنے میں بلند حوصلوں کے ساتھ خواتین شرکت کر رہی ہیں ۔ اس دھرنا میں رانچی کے مختلف محلوں کے علاوہ شہر کے آس پاس کے دیہی علاقوں سے کثیر تعداد میں خواتین شرکت کیلئے آرہی ہیں ۔ وہیں اس دھرنے میں مختلف مذاہب کے سماجی و سیاسی کارکنان کے علاوہ الگ الگ شعبہ کے ماہرین بھی شرکت کر رہے ہیں اور دھرنا میں شامل خواتین سے خطاب کر کے ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ ، بھیم آرمی کے قومی صدر ونئے رتن اور کانگریس کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری بھی دھرنا میں شامل ہوئے ۔


بھیم آرمی کے قومی صدر ونئے رتن نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ میں اپنی ماں ، بہن اور بیٹیوں کی حفاظت کے لئے مرنا پسند کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے خاندان کے لوگوں سے ملنے آیا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر کے آئین سے لوگوں کو واقف کرانے آیا ہوں ۔ ونئے رتن نے کہا کہ یہ ملک ان لوگوں کی جاگیر ہے ، جہاں کے لوگ روزانہ پانچ وقت اس سرزمین کو اپنے پیشانی سے لگاتے ہیں ۔ اس موقع پر انہوں نے دستور ہند کو بھی پڑھا ، جس کو خواتین نے بھی بلند آواز میں دہرایا ۔ ونئے رتن کی تقریر کے دوران خواتین تالیاں بجاتی نظر آئیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب بھیم آرمی کے سرپرست چندرشیکھر آزاد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اپنی تقریر کے دوران دستور ہند میں درج حقوق کو بیان کر رہے تھے تو ان کے اس بیان پر ہی انہیں گرفتار کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند ہمیں اس ملک میں برابری کا حقوق فراہم کرتا ہے ، لیکن موجودہ حکومت آر ایس ایس کے منصوبہ کے تحت ہمیں اپنے حقوق سے محروم کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے ملک کی آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ ملک کی آزادی میں سب سے زیادہ شہادت مسلمانوں نے دی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے انگریزوں کی غلامی کا الزام لگاتے ہوئے ساورکر کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔


جے ایم ایم کے جنرل سکریٹری سپریو بھٹاچاریہ نے سی اے اے اور این آر سی کو عوام مخالف بتایا اور کہا کہ مرکزی حکومت کے اس قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس خیالات سے ارباب اقتدار کو واقف کرایا گیا ہے اور اسمبلی اجلاس میں اس موضوع کو لانے کی بات کہی ۔ سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ مذہب کے نام پر ملک تقیسم کرنے کی پالیسی کام نہیں آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے خلاف متحد ہوکر لڑنا ہے ۔ ساتھ ہی کہا کہ اس قانون کے خلاف لمبی لڑائی لڑی جائے گی ۔


کانگریس کے رکن اسمبلی ڈاکٹر عرفان انصاری نے مرکزی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا ۔ واضح رہے کہ اس دھرنا میں ایک روز قبل سابق مرکزی وزیر شرد یادو بھی شامل ہوئے تھے ۔ اس موقع پر انہوں نے خواتین کو خطاب کیا تھا ۔ اس دوران انہوں نے مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ واضح رہے کہ شاہین باغ رانچی کے ایک وفد نے شہر کے مین روڈ واقع گرودوارے جاکر سکھ برادری کے لوگوں کو گلاب کا پھول دے کر دہلی کے شاہین باغ کے لوگوں کی حمایت کیلئے شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر انہوں نے دہلی شاہین باغ میں دھرنا میں شامل خواتین کے طعام کا انتظام کئے جانے کو انسانیت کی عمدہ مثال قرار دیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم طبقہ اس احسان کو کبھی نہیں بھولے گا۔
First published: Feb 17, 2020 07:29 PM IST