உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka: کرناٹک میں اب زبان کو لے کر بحث! حکومت پر ہندی زبان کو مسلط کرنے کا الزام

    طلباء کو موقع فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

    طلباء کو موقع فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔

    • Share this:
      اتراکھنڈ کے دورے کے لیے ہندی کا علم رکھنے والے طلبا کو منتخب کرنے کے بارے میں کرناٹک حکومت کے سرکلر نے ہندی نافذ کرنے کے سلسلے کو جنم دیا ہے، جس میں حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر ریاست یا مرکز کی طرف سے ایسی کوئی ہدایت نہیں ہے۔

      یہ سرکلر وائرل ہوا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایک بھارت شریشٹھ بھارت پہل کے تحت آزادی کا امرت مہوتسو کے ایک حصے کے طور پر طالب علموں کے لیے دوسری ریاستوں میں ٹور پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے، جس کے لیے دو طلبہ (ایک لڑکا اور ایک لڑکی) پری یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ سے منتخب کرنا ہے۔

      اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کالج میں پی یو سی کے دوسرے سال میں پڑھنے والے طلباء کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے طلباء کا انتخاب کریں جو ہندی بول سکتے ہوں، ٹیکنالوجی کی سمجھ رکھتے ہوں اور ثقافتی اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہوں۔ کالجوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایسے طلباء کی فہرست ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفتر میں جمع کریں۔ طلباء کا حتمی انتخاب ڈپٹی ڈائریکٹر کرے گا۔ اس سرکلر پر "ہندی نافذ کرنے" کا الزام لگاتے ہوئے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

      تاہم کرناٹک کے پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کے وزیر بی سی ناگیش نے واضح کیا کہ نہ تو ریاست اور نہ ہی مرکزی حکومت نے ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ ٹور پروگرام کے لیے ہندی بولنے والے طلبہ کے انتخاب کے حوالے سے کوئی ہدایات جاری کی ہیں۔ وزیر کی وضاحت پری یونیورسٹی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (بنگلورو ساؤتھ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے جاری کردہ سرکلر پر تنازعہ کے بعد سامنے آئی ہے۔

      مزید پڑھیں: مہنگائی اب نہیں بڑھے گی! SBIکی رپورٹ میں دعویٰ، RBIاگلی دو میٹنگوں میں لے سکتا ہےبڑا فیصلہ

      ناگیش نے کہا ’’نہ تو مرکز اور نہ ہی ریاستی حکومت نے یہ ہدایت دی ہے کہ طلبہ کے لیے آزادی کا امرت مہوتسو (75 سال) کے حصہ کے طور پر دوسری ریاستوں کے ٹور پروگرام میں حصہ لینے کے لیے ہندی یا انگریزی زبان کا علم لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کنفیوژن پیدا کرنے کے ذمہ دار اہلکاروں یا عملے کے خلاف تادیبی کارروائی کرے گا۔

      مزید پڑھیں: پٹرول پمپ ملازمین کسٹمر کے ساتھ کر رہے ہیں دھوکہ دہی، جانئے کس طرح جھونک رہے آنکھوں میں دھول

      ٹور پروگرام کے ایک حصے کے طور پر کل 50 طلبا کو ایک بیچ میں اتراکھنڈ بھیجا جائے گا اور اتنے ہی طلباء شمالی ریاست سے کرناٹک کا سفر کریں گے۔ تنازعہ کے بعد کنڑ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) کے چیئرپرسن ٹی ایس ناگابھرنا نے محکمہ کو خط لکھ کر انتخاب کے معیار کو تبدیل کرنے اور کنڑ بولنے والے طلباء کو موقع فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: