உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K : کشمیر کے بعد اب جموں میں بھی کشمیری پنڈتوں نے شروع کیا احتجاجی دھرنا، جانئے کیوں؟

    J&K : کشمیر کے بعد اب جموں میں بھی کشمیری پنڈتوں نے شروع کیا احتجاجی دھرنا، جانئے کیوں؟

    J&K : کشمیر کے بعد اب جموں میں بھی کشمیری پنڈتوں نے شروع کیا احتجاجی دھرنا، جانئے کیوں؟

    Jammu and Kashmir: آل جموں و کشمیر مائیگرنٹ ایسوسی ایشن کے بینر تلے جموں میں شروع ہوئے آج اس احتجاج میں سینکڑوں مائیگرنٹ ملزمین شریک ہوئے ۔ یہ ملازمین جلد انہیں جموں منتقل کرنے کی مانگ کر رہے تھے۔

    • Share this:
    جموں : وادی کشمیر میں پی ایم پیکیج کے تحت اپنی ڈیوٹیاں انجام دینے والے ملازمین ایک ماہ سے احتجاج پر ہیں ۔ یہ ملازمین دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی طبقہ کے ملازمین کی ہلاکتوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ گزشتہ مہینے وادی کشمیر میں پی ایم پیکیج کے تحت کام کرنے والے ملازم اور اقلیتی طبقہ سے وابستہ دو دیگر ملازمین کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے بعد پی ایم پیکیج کے تحت وادی میں اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے کشمیری مائیگرنٹ ملازمین اور اقلیتی طبقے سے وابستہ دیگر ملازمین ڈیوٹی پر نہیں جارہے ہیں۔ یہ ملازمین وادی کشمیر میں ان کے لئے قائم ٹرانزٹ کیمپوں مین احتجاجی دھرنے پر  ہیں۔ یہ ملازمین وادی میں حالات میں بہتری آنے تک انہیں جموں میں تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ وادی کشمیر میں محفوظ نہیں ہیں۔ ان ملزمین میں سے بیشتر لوگ واپس اپنے گھر جموں آئے ہیں اور آج سے ان ملازمین نے جموں میں بھی اپنا احتجاجی دھرنا شروع کیا۔

    آل جموں و کشمیر مائیگرنٹ ایسوسی ایشن کے بینر تلے جموں میں شروع ہوئے آج اس احتجاج میں سینکڑوں مائیگرنٹ ملزمین شریک ہوئے ۔ یہ ملازمین جلد انہیں جموں منتقل کرنے کی مانگ کر رہے تھے۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کی وجہ سے وہ کشمیر میں خود کو محفوظ نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ لہذا وہ وہاں کام کرنے سے قاصر ہیں۔ ایک مائیگرنٹ ملازم ارچنا کول نے نیوز18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کپواڑہ کے ایک دور افتادہ گائوں میں بحثیت استانی تعینات ہیں اور موجودہ حالات میں وہ ایسے علاقے میں نوکری نہیں کرسکتی کیونکہ وادی میں کشمیری پنڈتوں کی ٹارگیٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں اس گاوں سے ٹرانسفر کرکے کپواڑہ مین میں تعینات کیا گیا ۔ تاہم وادی کے کسی علاقے میں اس وقت اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے بچے کیسے ان حالات میں وہاں اسکول جا پائیں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: جموں وکشمیر میں انکاونٹر کے تین واقعات میں لشکر کے پانچ دہشت گرد ڈھیر


    ایک اور ملازم سنجے رینہ کا کہنا ہے کہ راہُل بٹ کی ہلاکت کے بعد وہ کبھی بھی اپنے رہائشی کیمپ سے باہر نہیں آسکے، کیونکہ انہیں حالات مناسب نہیں لگے۔ دیپک نامی مائیگرنٹ ملازم نے کہا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ کرائے کے مکام میں رہتے تھے اور آج تک انہیں کبھی کوئی خطرہ نہیں لگا۔ تاہم جب سے دہشت گردوں نے اقلیتی فرقے کے ملازمین کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے، تو انہیں بھی زبردست ڈر لگا اور وہ جموں واپس آگئے ۔ ان کا یہی مطالبہ ہے کہ ایسے سبھی ملازمین کو فی الحال جموں منتقل کیا جائے ۔ ایک اور احتجاجی ملا زم رُبن سپرو نے الزام لگایا کہ سرکار  ان ملازمین کو کبھی مراعات دے کر اور کبھی دباو میں لاکر ڈیوٹیوں پر حاض رہونے کی کوشش کررہی ہے تاہم ایسے حالات میں مائیگرنٹ ملازمین وادی کشمیر میں اپنی ڈیوٹیاں انجام نہیں دے پائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار ان کے ساتھ ناٹک کر رہی ہے، کیونکہ اقلیتی طبقے کے ملازمین کو اگر سرکار کو بچانے کی فکرہوتی تو  وہ وقت گنوائے بغیر فی الحال ایسے ملازمین کو جموں منتقل کرنے کے احکامات صادر کرتی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: وادی کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگز کے خلاف آواز بلند کریں عوام : ایل جی منوج سنہا


    وہیں فوڈ سیول سپلائیز گاندربل کی طرف سے جاری کردہ ایک حکمنامے میں محکمے کے مائیگرنٹ ملازمین کو سولہ جون تک اپنی ڈیوٹیاں جوائین کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ ایسے میں یہ مائیگرنٹ ملازمین کافی پریشان ہیں اور سرکار سے جلد فیصلہ لینے کی درخواست کرتے ہیں۔ جموں میں شروع ہوئے احتجاج کی قیادت کرنے والے ستیش رینہ اور رنجن زُتشی نے اعلان کیا کہ کل صُبح دس بجے سے وہ جموں کے ریلیف کمیشنر مائیگرنٹس کے دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کا دھرنا شروع کریں گے۔

    انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کئے گئے، تو مائیگرنٹ ملازمین سڑکوں پر آکر اپنے مطالبات منوانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے پر مجبور ہوں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: