உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش : آزادی کی ساجھی وراثت کو بچانا وقت کی ضرورت، اقلتی اداروں اور سماجی تنظیموں نے کچھ یوں منایا یوم آزادی کا جشن

    مدھیہ پردیش : آزادی کی ساجھی وراثت کو بچانا وقت کی ضرورت، اقلتی اداروں اور سماجی تنظیموں نے کچھ یوں منایا یوم آزادی کا جشن

    مدھیہ پردیش : آزادی کی ساجھی وراثت کو بچانا وقت کی ضرورت، اقلتی اداروں اور سماجی تنظیموں نے کچھ یوں منایا یوم آزادی کا جشن

    حج کمیٹی ، وقف بورڈ، اردو اکادمی، مساجد کمیٹی ، مدرسہ بورڈ، تاج المساجد، جمعیت علماو دوسری سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام کووڈ 19 کی گائیڈ لائن کے بیچ جشن آزادی کو منایا گیا ۔ سبھی تقریب میں ملک کی ساجھی وراثت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

    • Share this:
    بھوپال : مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں اور مسلم سماجی تنظیموں کے زیراہتمام  جشن آزادی کی تقریب کا انعقاد روایتی انداز میں جوش و عقیدت کے ساتھ کیا گیا۔ کہیں پر سبھی قوموں کے مذہبی رہنماؤں نے مل کر قومی پرچم کولہرایا تو کہیں پر قومی پرچم لہرانے کے بعد آزادی کے پچھہتر سالوں کا احتساب کیا گیا ۔ حج کمیٹی ، وقف بورڈ، اردو اکادمی، مساجد کمیٹی ، مدرسہ بورڈ، تاج المساجد، جمعیت علماو دوسری سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام کووڈ 19 کی گائیڈ لائن کے بیچ جشن آزادی کو منایا گیا ۔ سبھی تقریب میں ملک کی ساجھی وراثت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔

    مدھیہ پردیش جمعیت علما کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ آزادی کا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی ساجھی وراثت کومحفوظ کریں اور اسی میں ہندستان کی سالمیت ہے ۔ وہیں گرودوارہ پربندھک کمیٹی بھوپال کے نگراں گیانی دلیپ سنگھ کہتے ہیں کہ اتحاد واتفاق سے ہی ملک کی ترقی ممکن ہے اور آج اسی پیغام کو لیکر سبھی لوگوں نے مل کر قومی پرچم کو لہرایا ہے ۔

    مساجد کمیٹی میں شہر قاضی سید مشتاق علی ندوی نے پرچم کشائی کی ۔ شہرقاضی سید مشتاق علی ندوی کہتے ہیں کہ آج کا دن  خوشی منانے اور مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ احتساب کا بھی دن ہے اور جب تک ہم اپنا احتساب نہیں کریں گے تب تک ہم اس عظیم ملک کو آگے نہیں لے جا سکتے ہیں ۔

    پروفیسر اکشے کمار جین کہتے ہیں کہ آزادی کے بعد اس ملک کے نگہبانوں نے یہاں کے دستور کی اساس سیکولرازم پر رکھی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں سبھی مذاہب اور قوم کے لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مخصوص نظریہ پر اپنا ملک قائم کیا تھا ، جن کے یہاں دوسرے مذاہب کا احترام نہیں ہے وہ لوگ آج نہ صرف مشکلات میں ہیں بلکہ تباہی کے دہانے پر ہیں ۔

    عیسائی مذہبی رہنما فادر آنند کہتے ہیں کہ اس ملک کی خوبصورت یہی ہے کہ یہاں پر سبھی تیج تہوار تو مل کر منائے ہیں جاتے ہیں اور سب سے بڑا تہوار یہاں کا جشن آزادی ہے۔ آزادی کی جنگ میں سبھی کے بزرگوں نے اپنا لہو دیا تھا تب یہ جاکر یہ ملک انگریزوں کی غلامی سے آزادی ہوا تھا ۔ آج ہمیں اس آزادی کو بچاکر رکھنا ہے اور مجاہدین آزادی کے خواب کو پورا کرنا ہے تو اس کے لئے آپسی کدورتوں کو مٹاکر صرف ہندستانی بن کر کام کرنا ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: