உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یاد بھگت سنگھ کے تحت مجاہدین آزادی کو کیا گیا یاد، سکھ دیو اور راج گرو کی حیات و خدمات ڈالی گئی روشنی

     آج یاد بھگت سنگھ عنوان کے تحت پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہاں بھگت سنگھ کے ساتھ سکھ دیو اور راج گرو کی حیات و خدمات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

    آج یاد بھگت سنگھ عنوان کے تحت پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہاں بھگت سنگھ کے ساتھ سکھ دیو اور راج گرو کی حیات و خدمات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

    آج یاد بھگت سنگھ عنوان کے تحت پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہاں بھگت سنگھ کے ساتھ سکھ دیو اور راج گرو کی حیات و خدمات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    آزادی کا امرت مہو تسو کے تحت یوں تو پورے ملک میں تقاریب کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ تقاریب کا انعقاد سرکاری سطح کے ساتھ سماجی تنظیموں کے ذریعہ بھی کیا جا رہا ہے۔ سرکاری سطح پر جو پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں اُس میں مسلم مجاہدین آزادی کا ذکر کہیں برائے نام توکہیں پر کیا ہی نہیں کیا جا تا ہے۔ ایسے میں مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے سال نہ صرف آزادی کا امرت مہو تسو تقریب کا انعقاد کیا جائے بلکہ اس کے حوالے سے آزادی کی ساجھی وراثت کو ملک کی عوام کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ نئی نسل آزادی کی صحیح تاریخ سے واقفیت حاصل کر سکے۔

    مولانا برکت اللہ بھوپالی ایجوکیشن سوسائٹی کے صدر حاجی محمد ہارون کہتے ہیں کہ آزادی کی تحریک میں بلا لحاظ قوم وملت سبھی نے اپنے خون جگر کا عطیہ دیا ہے اور یہ ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ ہم بلا لحاظ قوم و ملت سبھی کو یاد کریں۔ آج یاد بھگت سنگھ عنوان کے تحت پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ یہاں بھگت سنگھ کے ساتھ سکھ دیو اور راج گرو کی حیات و خدمات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

    آزادی ہماری ساجھی وراثت کا حصہ ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ دار ی ہے۔ اگر اس ساجھی وراثت کا اس وقت تحفظ نہیں کیا گیا تو ملک کا اتنا بڑا خسارہ ہو گا جس کی تلافی صدیوں نہیں ہوسکے گی۔ یاد بھگت سنگھ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئےمولانا وکااللہ نےکہا کہ ہندستان مشترکہ تہذیب کاملک ہے ۔یہ وہ ملک ہےجہاں میرا کےآنسومیر کی آنکھوں سےنکلتے ہیں ۔یہاں چندلوگ اپنےسیاسی مفاد کے لئےملک سیکولر تا نے با نے کو ضرور نقصان پہنچا نا چاہتے ہیں لیکن آپ بیدار ہیں تو آپ کی تہذیب،فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔

    پروگرام سے خطاب کر تے ہوئے محمد حنیف نے کہا کہ بھگت سنگھ کے مطالعہ سے ملک کی خدمت کرنے کا نیی نسل کو حوصلہ ملتا ہے۔انگریزی حکومتِ کے جبر کے خلاف جب بھگت سنگھ کا مقدمہ کوئی نہیں لڑنا چاہتا تھا اس وقت بیرسٹر آصف نے بھگت سنگھ کا مقدمہ لڑا تھا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: