آروشی ہیمراج قتل کیس: جج نے بیٹے سے ٹائپ کروایا تھا فیصلہ

ملک کی سب سے بڑی مرڈر مسٹری آروشی ہیمراج دوہرے قتل کے معاملے میں بھلے ہی نچلی عدالت نےاپنا فیصلہ سنا دیا ہو ،لیکن اس معاملے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔

Jul 08, 2015 03:39 PM IST | Updated on: Jul 08, 2015 03:39 PM IST
آروشی ہیمراج قتل کیس: جج نے بیٹے سے ٹائپ کروایا تھا فیصلہ

ملک کی سب سے بڑی مرڈر مسٹری آروشی ہیمراج دوہرے قتل کے معاملے میں بھلے ہی نچلی عدالت نےاپنا فیصلہ سنا دیا ہو ،لیکن اس معاملے میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے کی سماعت کرنے والے جج نے دلیل شروع ہونے سے پہلے ہی فیصلہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔

آروشی تلوار کےقتل سے متعلق جلد ہی منظر عام پر آنے والی کتاب 'آروشی' کیس سے متعلق کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ سال 2008 میں نوئیڈا کے سیکٹر 21 کے جل وایو وہار  میں ہوئے اس قتل کی طویل وقت کوریج کرنے والے ایک صحافی نے یہ کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے کئی چونکانے والے انکشافات کئے ہیں۔

آروشی ہیمراج دوہرے قتل کے معاملے میں خصوصی سي بی آئی جج کو انگریزی میں ٹائپ کرنے والے اسٹینوگرافر کو تلاش کرنے میں پریشانی ہوئی۔ آخر کار انہیں اپنے وکیل بیٹے سے فیصلے کے کچھ ابتدائی صفحات کو ٹائپ کروانا پڑا۔

جج شیام لال کے بیٹے ایڈووکیٹ آشوتوش یادو کے مطابق انہیں فیصلہ لکھنے میں ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔ اس پر صحافی نے لکھا کہ اس کا مطلب صاف تھا کہ مدعا علیہان کی دلیل شروع ہونے سے بہت پہلے شیام لال اور ان کے بیٹے نے فیصلہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔

Loading...

Loading...