وياپم کے بعد آسارام ​​کیس سے جڑے لوگوں پر منڈلائی موت، پڑھیں-اب تک کتنے ہوئے شکار

نابالغ لڑکی کے جنسی استحصال کے ملزم آسارام ​​کے خلاف گواہی دینے والوں پر جان لیوا حملوں کا دور تھمنے کا نام نهي لے رہا ہے۔

Jul 11, 2015 12:53 PM IST | Updated on: Jul 11, 2015 12:57 PM IST
وياپم کے بعد آسارام ​​کیس سے جڑے لوگوں پر منڈلائی موت، پڑھیں-اب تک کتنے ہوئے شکار

نابالغ لڑکی کے جنسی استحصال کے ملزم آسارام ​​کے خلاف گواہی دینے والوں پر جان لیوا حملوں کا دور تھمنے کا نام نهي لے رہا ہے۔ کیس سے وابستہ کئی اہم گواہوں کو جان سے مارنے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ ان میں سے ایک کا تو قتل بھی کیا جا چکا ہے۔ جمعہ کو ایسا ہی جان لیوا حملہ شاہ جہاں پور علاقے کے صدر بازار میں معاملہ کی اہم اہم گواہ کرپال سنگھ پر ہوا، اس حملے کے ساتھ ہی دیگر گواہوں کو بھی اپنی جان پر خطرہ منڈلاتا ہوا نظر آرہا ہے، ان میں سے بہت سے گواہ پولیس تحفظ کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔

پہلا حملہ

لکھنؤ کا باشندہ راہل کے سچانا (41) پر آسارام ​​کے ایک حامی نے چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ راہل کی پیٹھ پر دو وار کئے گئے، جس سے اس کا پھیپھڑا پھٹ گیا تھا تاہم جان بچ گئی تھی۔

Loading...

دوسراحملہ

گواہ دیویندر پرجاپتی کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ نامعلوم افراد نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور گواہي نہیں دینے کی دھمکی دی۔ معاملہ درج کیا گیا مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

تیسرا حملہ

متاثرہ لڑکی کا گواہ شیوناتھ کیس کے سلسلے میں باہر جانے کے لئے آٹو رکشہ میں بیٹھا تو آسارام ​​کے گرگو ں نے گھیر لیا تھا اور مارپیٹ کی کوشش کی لیکن انتظامیہ کے موقع پر پہنچے پر جان بچ گئی۔

چوتھا حملہ

فروری 2014 میں سورت میں آبروریزی متاثرہ کے شوہر پر چاقو سے حملہ کیا گیا تھا۔ چار نقاب پوشوں نے سر عام گواہ پر حملہ بول دیا تھا۔

پانچواں حملہ

معاملے سے جڑے گواہوں پر پانچواں حملہ سورت کیس سے وابستہ ہے۔ سورت آبروریزی کیس کے گواہ دنیش پر تیزاب سے حملہ کیا گیا تھا۔

چھٹے حملے میں گواہ کی موت

گزشتہ سال 2014 میں آسارام ​​کے ذاتی معالج رہے امرت پرجاپتی کا راج کوٹ میں گولی مار کر قتل کر دیا یگا تھا۔

ساتواں حملہ

10 جولائی 2015 کو شاہ جہاں پور علاقے کے صدر مارکیٹ کے گوالٹولي محلے میں اہم گواہ کرپال سنگھ کو جمعہ کی رات میں ہتھیاروں سے لیس بدمعاشوں نے گولی مار دی۔ بتایا جاتا ہے کہ کرپال سنگھ کافی وقت سے آسارام ​​کے آشرم سے وابستہ تھا ۔تقریبا ڈیڑھ سال پہلے جب شہر کی ایک بیٹی نے آسارام ​​پر جسمانی استحصال کے الزام لگائے تھے تو انہوں نے بھی آشرم چھوڑ دیا تھا اور اس معاملے میں اہم گواہ بن گئے تھے۔ اس کے بعد سے ہی انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔

Loading...