بدایوں اجتماعی آبروریزی کا کیس :قتل کو خودکشی بتانے والی سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ مسترد

نئی دہلی : پورے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے یوپی کے بدایوں آبروریزی اور قتل کیس کی تحقیقات کر رہی سی بی آئی کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب سی بی آئی کورٹ نے اس معاملے میں جانچ ایجنسی کی کلوزر رپورٹ مسترد کر دی ہے۔

Oct 28, 2015 06:45 PM IST | Updated on: Oct 28, 2015 06:45 PM IST
بدایوں اجتماعی آبروریزی کا کیس :قتل کو خودکشی بتانے والی سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ مسترد

نئی دہلی : پورے ملک کو ہلا کر رکھ دینے والے یوپی کے بدایوں آبروریزی اور قتل کیس کی تحقیقات کر رہی سی بی آئی کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب سی بی آئی کورٹ نے اس معاملے میں جانچ ایجنسی کی کلوزر رپورٹ مسترد کر دی ہے۔

غور طلب ہے کہ اہل خانہ نے اس معاملے میں دو بہنوں کی آبروریزی اور قتل کا معاملہ درج کرایا تھا، لیکن سی بی آئی نے اپنی جانچ میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ دراصل ایک خودکشی کا معاملہ ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ 27 مئی 2014 کو بدايوں کے گاؤں میں دو بہنیں اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ ان کی لاش اگلی صبح گاؤں کے قریب ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی ۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ آبروریزی کے بعد ان لڑکیوں کا قتل کرکے ان کی لاشیں درخت پر لٹکا دی گئی ہیں اور جب معاملے نے زیادہ طول پکڑ ا، تو یوپی حکومت نے اس کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کردی ۔

سی بی آئی نے لاشوں کو نکال کر ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا، پانچوں ملزم اور لڑکیوں کے ماں باپ کا لائی ڈیٹیکٹر ٹیسٹ کرایا گیا ، اس کے بعد سی بی آئی اس نتیجے پر پہنچی کہ دونوں بہنوں کا جنسی استحصال نہیں ہوا اور نہ ہی ان کا قتل کیا گیا ہے بلکہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے ۔

Loading...

سی بی آئی کا کہنا تھا کہ گاؤں کے ایک نوجوان کے ساتھ اپنی دوستی کو اہل خانہ کی طرف سے مسترد کئے جانے بعد دونوں بہنوں نے خود کشی کا راستہ اختیار کیا تھا۔ جانچ ایجنسی نے اس نوجوان سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔

جانچ ایجنسی نے ان پانچ ملزموں کے کسی بھی رول سے انکار کیا تھا ، جنہیں یوپی پولیس نے عصمت دری اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

Loading...