اکھلیش حکومت کی دلیل خارج ، یادو سنگھ کے کالی کمائی کی جانچ کرے گی سی بی آئی

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے معطل چیف انجینئر یادو سنگھ کے معاملے کی انکوائری سی بی آئی سے کرانے کا آج حکم دیا۔

Jul 16, 2015 01:41 PM IST | Updated on: Jul 16, 2015 01:44 PM IST
اکھلیش حکومت کی دلیل خارج ، یادو سنگھ کے کالی کمائی کی جانچ کرے  گی سی بی آئی

Loading...

 الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے معطل چیف انجینئر یادو سنگھ کے معاملے کی انکوائری سی بی آئی سے کرانے کا آج حکم دیا۔ جسٹس ٹی وائی چندر چوڑ اور جسٹس ایس این شکلا کی بنچ نے کل سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ آج عدالت لگتے ہی یہ فیصلہ سنادیا گیا ۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اس لئے اس کی انکوائری سی بی آئی سے کرانا ضروری ہے۔ اس معاملے میں یادو سنگھ پر 954کرو ڑروپے سے زیادہ کے گھپلے کا الزام ہے۔

اس سے پہلے محکمہ جاتی تحقیقات اور سی بی ، سی آئی ڈی نے یادو سنگھ کو کلین چيٹ دے دی تھی ۔ اب کورٹ کے اس فیصلے کے بعد حکومت کو بھی جھٹکا لگا ہے ۔ چاہے اقتدار کسی کے  بھی ہاتھ میں رہی ہو یادو سنگھ کی پہنچ ہر جگہ تھی ۔  یہی وجہ ہے کہ مایاوتی کے راج میں بھی اور اکھلیش حکومت میں بھی یادو سنگھ نوئیڈا اتھارٹی میں چیف انجنیئر بنے رہے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ منگل کو بحث مکمل ہو گئی تھی ۔

درخواست میں یادو سنگھ کے رہائش گاہ پر پڑے چھاپے میں مبینہ طور پر غیر قانونی جائیداد ملنے کا حوالہ دے کر پورے معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ۔  ادھر ریاستی حکومت اور یادو سنگھ کی طرف سے درخواست کی مخالفت کی گئی اور اس کو مسترد کئے جانے کے قابل کہا گیا۔ غور طلب ہے کہ اس معاملے میں بھی مفاد عامہ کی عرضی افسر امیتابھ ٹھاکر کی بیوی نوتن نے داخل کی تھی ۔ محکمہ جاتی تحقیقات اور سی بی-سی آئی ڈی سے کلین چيٹ کے بعد نوتن نے دسمبر 2014 میں ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرکے یادو سنگھ معاملے کو سی بی آئی کو سوپنے کی اپیل کی  تھی۔ ہائی کورٹ نے 6 ماہ کی سماعت اور سارے ثبوتوں کو دیکھنے کے بعد معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ لیا ۔

Loading...