کرنل نظام الدین کی باتوں سے مزید گہرایا نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت کا راز

جنگ آزادی میں آزاد ہند فوج قائم کر کے انگریزوں سے لوہا لینے والے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی زندگی اور موت سے وابستہ تمام راز کا رشتہ یوپی کے اعظم گڑھ کے مبارکپور علاقے کے ڈھكوا گاؤں سے بھی جڑا ہوا ہے

Aug 23, 2015 05:17 PM IST | Updated on: Aug 23, 2015 05:18 PM IST
کرنل نظام الدین کی باتوں سے مزید گہرایا نیتا جی سبھاش چندر بوس کی موت کا راز

اعظم گڑھ  :  جنگ آزادی میں آزاد ہند فوج قائم کر کے انگریزوں سے لوہا لینے والے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی زندگی اور موت سے وابستہ تمام راز کا رشتہ یوپی کے اعظم گڑھ کے مبارکپور علاقے کے ڈھكوا گاؤں سے بھی جڑا ہوا ہے ۔

اس گاوں میں نیتا جی کے باڈی گارڈ اور ڈرائیور رہ چکے 115 سالہ  کرنل نظام الدین زندگی کے آخری پڑاؤ پر نیتا جی سے وابستہ یادوں کو تازہ کر کے آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ کرنل نظام الدین کے والد ینگون میں كینٹين چلاتے تھے اور چھوٹی عمر میں ہی کرنل نظام الدین ان کے ساتھ چلے گئے تھے ۔ اسی دوران انگریزوں نے کرنل نظام الدین کو پکڑ لیا اور اپنی فوج میں شامل کر دیا ، لیکن انگریز سپہ سالار کے ہندوستانیوں کے تئیں بولے جانے والے جملوں سے مجروح نظام الدین اور ان کے کئی دیگر ساتھیوں نے بغاوت کر دی ۔

وہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج میں شامل ہو گئے اپنے لگن اور ایمانداری سے جلد ہی وہ نیتا جی کے قریبی ہو گئے اور ان کے ڈرائیور اور محافظ بن گئے ۔ بعد میں نیتا جی کی خفیہ جنگ کی پالیسی کا حصہ بھی رہے ۔

Loading...

نیتا جی کی 1945 میں ہوائی جہاز حادثے میں موت کی بات بھلے ہی عام ہو گئی ہو ، لیکن کرنل نظام الدین کہتے ہیں کہ 1947 میں نیتا جی خود ان کے ساتھ تھے اور نظام الدین نے ہی نیتا جی کو بوٹ سے تھائی لینڈ روانہ کیا تھا ۔

کرنل نظام الدین کی اس بات سے نیتا جی کی موت کا راز اور گہرا گیا ہے ۔ 115 سالہ کرنل نظام الدین نیتا جی سبھاش چندر بوس کے شاید آخری زندہ ساتھی ہیں ۔ نیتا جی کے چاہنے والے آج بھی کرنل نظام الدین کے یہاں آتے ہیں ۔ دو ماہ پہلے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی بیٹی راج شری ملنے آئی تھیں ۔

Loading...