رامپور کے سوارمیں مذہبی مقام پر توڑ پھوڑ ، حالات کشیدہ لیکن قابو میں

اترپردیش میں رام پور کے سوار کوتوالی علاقہ میں کل رات ایک مذہبی مقام پر توڑ پھوڑ کے سبب تشدد کے واقعہ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں

Jul 26, 2015 05:42 PM IST | Updated on: Jul 26, 2015 05:43 PM IST
رامپور کے سوارمیں مذہبی مقام پر توڑ پھوڑ ،  حالات کشیدہ لیکن قابو میں

رام پور : اترپردیش میں رام پور کے سوار کوتوالی علاقہ میں کل رات ایک مذہبی مقام پر توڑ پھوڑ کے سبب تشدد کے واقعہ کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔مذہبی مقام کو نقصان پہونچانے اور مذہبی کتاب کو مبینہ طور پر جلانے کے واقعہ سے تشدد بھڑک اٹھنے کے بعد قصبے میں بڑے پیمانے پر پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے ۔ تمام مذہبی مقامات پر پولیس چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔مذہبی مقام پر توڑ پھوڑ کے ملزم نوجوان کی گرفتاری اور اسے جیل بھیجے جانے پر آج دوسرے فرقے کے افراد مشتعل ہوگئے۔ انہوں نے بازار میں زبردستی دکانیں بند کرائیں ، جس کی وجہ سے ماحول ایک بار پھر کشیدہ ہوگیا۔ دوپہر بارہ بجے تک پولیس دکانیں کھلوانے کی کوشش کرتی رہی جب کہ کوتوالی میں توڑ پھوڑ کے بعد سیکورٹی کے مدنظر چار وں طرف گاڑیوں کی رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔ ایس پی سادھنا گوسوامی نے کہا کہ مذہبی مقام پر توڑ پھوڑ کے واقعہ کے بعد ملزم کو گرفتار کرلیا گیا تھالیکن اس کے بعد کچھ شرپسند عناصر نے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی اور کوتوالی پر حملہ بھی کیا۔ جس سے پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ سماج دشمن عناصر کی نشاندہی کی جارہی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال حالات پوری طرح ہمارے قابو میں ہیں۔اس دوران حکومت نے سوار کوتوالی میں ہوئے واقعہ کی رپورٹ ضلع انتظامیہ سے طلب کی ہے ۔چیف ہوم سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل پولیس نے کل رات ہی فون پر حالات کی جانکاری لی۔ ضلع انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق پورے واقعہ اور پولیس کارروائی کے علاوہ تازہ حالات کے بارے میں حکومت بھیجنے کے لئے رپورٹ تیار کی جارہی ہے ۔ چار مجسٹریٹ اور تین سی او قصبے میں ہی خیمہ زن ہیں۔پولیس نے بتایا کہ مذہبی مقام کی توڑ پھوڑ اور مذہبی کتاب کو جلانے کے واقعہ میں ملوث شخص کو لوگوں نے پکڑ لیا تھا ۔ لیکن وہاں سے گذر رہے تحصیل دار راجندر پانڈے نے اپنی جیب رکوا کر ملزم کو ہجوم کے چنگل سے آزاد کرلیا اور کوتوالی پولیس کے حوالے کردیا ۔ ادھر جب مذہبی مقام میں توڑ پھوڑ اور مذہبی کتاب کی بے حرمتی کئے جانے کی خبر پھیلی تو ہزاروں لوگ سڑکوں پر اترآئے ۔ ملزم کو پولیس سے چھڑانے کی کوشش میں کوتوالی گیٹ پر ہنگامہ ہوگیا ۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا تو ہجوم نے پتھراو کردیا ۔ بعدمیں اضافی پولیس فورس طلب کرنی پڑی۔ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پولیس نے بعد ہوا میں گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ دوسری طرف ہجوم نے بھی کئی راونڈ فائرنگ کی ۔ پتھراو اور فائرنگ میں دو داروغہ بھگوان سنگھ اور کیلاش کے علاوہ تین سپاہی جمع ہوگئے۔  سینئر پولیس افسران جائے واردات پر پہونچ گئے ہیں اور حالات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔

Loading...

Loading...