جب پھانسی کا انتظار کر رہی سات قتل کی مجرم شبنم کی کانپ گئی روح

پنوں کو کھونے کا درد پوری زندگی ناسور بن کر لوگوں کو ستاتا رہتا ہے لیکن جب کوئی خود اپنے ہاتھوں سے اپنوں کا گلا کاٹ دے تو اس کی بدقسمتی کوئی نہیں سمجھ سکتا

Jul 31, 2015 12:00 PM IST | Updated on: Jul 31, 2015 12:43 PM IST
جب پھانسی کا انتظار کر رہی سات قتل کی مجرم شبنم کی کانپ گئی روح

میرٹھ  :  اپنوں کو کھونے کا درد پوری زندگی ناسور بن کر لوگوں کو ستاتا رہتا ہے لیکن جب کوئی خود اپنے ہاتھوں سے ہی اپنوں کا گلا کاٹ دے تو اس کی بدقسمتی کو کوئی نہیں سمجھ سکتا ، اپنیمحبت کے حصول کی خاطر  اپنے ہی خاندان کے سات افراد کو موت کے گھاٹ اتار دینے والی شبنم کو بھلے ہی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی ہو لیکن آج شبنم کو جو سزا ملی ہے ، اس کا اس  نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا ۔

گزشتہ سات سالوں سے جیل میں بند شبنم کے ساتھ رہ رہے اس کے بیٹے تاج محمد کو آج ایک جوڑے کے حوالے کر دیا گیا ، بیٹے سے الگ ہونے کی وجہ سے شبنم کی آنکھیں بھلے ہی نم ہو گئی تھی  ، لیکن  وہ بھی یہ جانتی ہے کہ اس کے ناقابل معافی گناہ کے سامنے یہ سزا کافی نہیں ہے ۔

یوپی کے امروہہ کے باون کھیڑی گاؤں کی رہنے والی شبنم آج سے آٹھ سال پہلے عام لڑکیوں کی طرح ہی تھی ،  ایم اے پاس شبنم گاؤں کے ایک اسکول میں بچوں کو پڑھاتی تھی ۔  اس کا خاندان  اچھا خاصا مالدار تھا ، اس کے باوجود پانچویں پاس ایک نوجوان  سلیم کی محبت میں اندھی شبنم نے ایک رات دنیا کی پروا کئے بغیر اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی خاندان کے سات افراد کا بے رحمی سے قتل کر دیا ۔

ایک ساتھ سات افراد کے قتل سے پورے علاقے میں سنسنی پھیل گئی ۔  پولیس نے جب  معاملے کی جانچ شروع کی تو اس کو  شبنم اور سلیم کے خلاف ثبوت ملے اور اس نے دونوں کو گرفتار کر لیا ۔ مرادآباد جیل میں بند شبنم نے گرفتاری کے بعد جیل میں ایک بیٹے کو جنم دیا، جس کے بعد اس کے اور سلیم کے تعلقات کی پول کھل گئی ۔ جیل میں پیدا ہوئے بیٹے کا نام شبنم نے تاج محمد رکھا اور اس کی پرورش میں بھی مصروف ہو گئی، لیکن اسی دوران امروہہ کی ایک عدالت نے شبنم اور سلیم کو پھانسی کی سزا سنا دی  ، جس کے بعد شبنم کے بیٹے تاج کے لئے ایک گارجین کی تلاش شروع کردی گئی ۔

Loading...

گزشتہ سات سالوں سے جیل میں شبنم کے ساتھ رہ رہے تاج کو آخر آج بلند شہر کے رہنے والے محمد عثمان نام کے ایک شخص کے سپرد کر دیا گیا  ۔ ضلع جیل کی بیرک سے باہر نکل کر اور  اپنی ماں شبنم کو اکیلا چھوڑ کر جب تاج اپنے نئے سفر کی جانب نکلا تو شبنم کی آنکھیں چھلک پریں ۔  جیل کی بیرک میں پیدا ہوئے تاج کو بھلے ہی یہ سمجھنے میں برسوں لگ جائے گا کہ آخر اس کا گناہ کیا تھا لیکن شبنم سب جانتی ہے ۔

ضلع جیل کی خواتین بیرک میں گزشتہ سات سالوں سے تاج کے ساتھ رہ کر اپنی زندگی جی  رہی شبنم بھی جانتی ہے کہ عدالت اس کی قسمت کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ ایسے میں اپنی آخری  امید تاج کا اس سے جدا ہونا اس کے لئے کسی صدمے سے کم نہیں ۔ تاج کو اپنے تحفظ میں لینے والے عثمان تاج کو پڑھا لكھاكر ایک  ذمہ دار شہری بنانے کے ساتھ ہی اسے اپنے پیروں پر بھی کھڑا کرنا چاہتے ہیں ۔ عثمان کی ملاقات شبنم سے  پہلے سے ہی رہی ہے، اسی لئے  شبنم نے بھی عثمان کو تاج کو سونپنے کی رضامندی دیدی تھی ۔ جیل سپرنٹنڈنٹ بی آر آریہ نے بتایا کہ امروہہ ضلع کی بہبود اطفال کمیٹی کے حکم کے بعد تاج کو سپرد کر دیا گیا اور آنے والے وقت میں تاج کی پرورش کی نگرانی کا ذمہ بھی کمیٹی کا ہی ہوگا ۔

عدالت کی طرف سے سنایا گیا فیصلہ قانون کی کتابوں کی بنیاد پر طے ہوتا ہے اور وہی ہوا بھی ہے  ، لیکن  تاج کے جدا ہونے کے بعد جو سزا ایک گرل فرینڈ سے ماں بنی شبنم کے ملی ہے، اس کی تشریح قانون کی کسی بھی کتاب میں نہیں ملتی  ، اپنی محبت کے حصول   کے لئے اپنوں کا ہی گلا کاٹتے ہوئے شبنم کے ہاتھ بھلے ہی نہیں كانپے ہوں ، لیکن آج بیٹے کو دوسرے ہاتھو میں سونپتے ہوئے شبنم کے ہاتھ ہی نہیں بلکہ اس کی روح بھی کانپ گئی ہوگی ۔

Loading...
Listen to the latest songs, only on JioSaavn.com