جب ہندو فریق مقدمے کو عدالت میں لے گئے ہیں ، تو کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرتے : ہاشم انصاری

فیض آباد: ایودھیا میں رام مندر کو لے کر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ وشو ہندو پریشد کے شیلاپوجن پر مسلم فریقوں نے سخت اعتراض کیا ہے۔مسلم فریقوں نے سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ بھی مسجد کے لئے پتھر لا سکتے ہیں ۔

Dec 21, 2015 10:48 PM IST | Updated on: Dec 21, 2015 10:48 PM IST
جب ہندو فریق مقدمے کو عدالت میں لے گئے ہیں ، تو کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرتے : ہاشم انصاری

فیض آباد: ایودھیا میں رام مندر کو لے کر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ وشو ہندو پریشد کے شیلاپوجن پر مسلم فریقوں نے سخت اعتراض کیا ہے۔مسلم فریقوں نے سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ بھی مسجد کے لئے پتھر لا سکتے ہیں ۔

بابری مسجد کے فریق ہاشم انصاری نے رام مندر پر وزیر اعظم مودی کے رخ کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر کے نام پر مودی وزیر اعظم بنے اور جب وی ایچ پی مندر کی تعمیرکیلئے مودی کے پاس جاتی ہے ، تو مودی کہتے ہیں کہ پانچ سال بعد آنا۔ جب ہندو فریق مقدمے کو عدالت میں لے گئے ہیں ، تو وہ کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں کرتے ہیں۔

دوسری طرف بابری مسجد کے ایک اور فریق حاجی محبوب نے بھی مسجد کی تعمیر کے لئے پتھر لانے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے وشو ہندو پریشد مندر کے لئے پتھر لا رہی ہے، اسی طرح سے مسلم بھی مسجد کے لئے پتھر لا سکتے ہیں ، لیکن مسلم ہم آہنگی چاہتا ہے۔ اس لیے وہ کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا کا ہر ہندو اور مسلم یہ بات جان چکا ہے کہ جو کچھ بھی وی ایچ پی کر رہی ہے وہ ایک ڈرامہ ہے۔ وی ایچ پی صرف دکان کھول کر بیٹھی ہے اور ہندوبرادری کو ورغلا رہی ہے۔

وہیں کانگریس نے ایودھیا میں شیلاپوجن کی مخالفت کرتے ہوئےکہا ہے کہ بی جے پی جان بوجھ کر بار بار رام مندر کے مسئلہ کو ہوا دینا چاہتی ہے ۔ کانگریس کا الزام ہے کہ یہ پورا معاملہ عدالت میں زیر غور ہےاور بی جے پی اس کے باوجود اس معاملے میں تنازع پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ کانگریس نے سماج وادی پارٹی سرکار سے اپیل کی کہ ایودھیا میں عدالت کے فیصلے کے خلاف شیلاپوجن کے خلاف کارروائی کرے۔

Loading...

Loading...