پاکستانی ہائی کمشنر کی عید ملن پارٹی میں شرکت پر علیحدگی پسند جماعتوں میں اختلاف رائے

وادی کشمیر میں بیشتر علیحدگی پسند جماعتیں خاص طورپر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اگرچہ گذشتہ دو ماہ کے دوران کئی ایک موقعوں پر متحد نظر آئیں جس دوران باہمی مشاورت کے بعد کئی احتجاجی پروگرام بھی جاری کئے گئے تھے تاہم نئی دہلی میں مقیم پاکستان کے ہائی کمشنر کی جانب سے 21 جولائی کو منعقد ہونے والی عید ملن پارٹی میں شرکت کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں۔

Jul 19, 2015 03:46 PM IST | Updated on: Jul 19, 2015 03:49 PM IST
پاکستانی ہائی کمشنر کی عید ملن پارٹی میں شرکت پر علیحدگی پسند جماعتوں میں اختلاف رائے

سری نگر۔ وادی کشمیر میں بیشتر علیحدگی پسند جماعتیں خاص طورپر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑے اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اگرچہ گذشتہ دو ماہ کے دوران کئی ایک موقعوں پر متحد نظر آئیں جس دوران باہمی مشاورت کے بعد کئی احتجاجی پروگرام بھی جاری کئے گئے تھے تاہم نئی دہلی میں مقیم پاکستان کے ہائی کمشنر کی جانب سے 21 جولائی کو منعقد ہونے والی عید ملن پارٹی میں شرکت کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہیں۔ جہاں حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ اور دختران ملت نے ہند پاک وزرائے اعظم کے درمیان روس کے اُفا شہرمیں ہوئی حالیہ میٹنگ میں کشمیر کا ذکر نہ آنے کے خلاف علامتی احتجاج کے طور پر عید ملن پارٹی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے وہیں حریت کانفرنس کے اعتدال پسند گروپ کا دو رُکنی وفد میر واعظ مولوی عمر فاروق اور مسرور عباس انصاری کی قیادت میں عید ملن پارٹی میں شرکت کرے گا۔ سب سے پہلے بذرگ علیحدگی پسند رہنما کی قیادت والی حریت کانفرنس نے عید ملن پارٹی میں شرکت سے انکار کیا اور بعد میں آسیہ اندرانی کی قیادت والی دختران ملت اور محمد یاسین ملک کی قیادت والی جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے بھی ایسا ہی اعلان کیا۔

Loading...

Loading...