پھر باہر آئے گا علاحدگی پسند لیڈر مسرت عالم، ہائی کورٹ نے رد کی حراست

علاحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی حراست کو جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے رد کر دی ہے ۔

Aug 21, 2015 06:28 PM IST | Updated on: Aug 21, 2015 07:02 PM IST
پھر باہر آئے گا علاحدگی پسند لیڈر مسرت عالم، ہائی کورٹ نے رد کی حراست

سری نگر :  جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز سینئر علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بٹ کی پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظربندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم جاری کردیا۔ جسٹس حسنین مسعودی پر مشتمل ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے آج بٹ کی پی ایس اے کے تحت نظربندی کو کالعدم قرار دے دیا۔ قابل ذکر ہے کہ 15 اپریل کو سخت گیر حریت کانفرنس نے اپنے چیرمین سید علی گیلانی کی نئی دہلی سے سری نگر واپسی کے موقع پر ایک استقبالیہ ریلی منعقد کی جس کے شرکاء نے نہ صرف پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی بلکہ پاکستانی جھنڈا بھی لہرایاتھا۔

مسرت عالم پر الزام تھا کہ انہوں نے اس استقبالیہ ریلی میں نہ صرف پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی بلکہ پاکستانی جھنڈا لہرانے والے شرکاء کی قیادت کی۔ پولیس نے 15 اپریل کی شام ہی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور پاکستانی جھنڈا لہرانے کے جرم میں سید علی گیلانی، مسرت عالم بٹ، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ اور سخت گیر حریت کانفرنس کے دیگر لیڈران کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد سے متعلق قانون کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی تھی تاہم بی جے پی اور ملک بھر کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کے بعد صرف مسرت عالم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔

مسرت عالم نے 17 اپریل کو  اپنے وکیل شبیر احمد بٹ کے ذریعے ضمانت کیلئے درخواست دائر کردی تھی۔ 18 اپریل کو انہیں بڈگام کی عدالت نے سات روزہ پولیس ریمانڈ میں دے دیا تھا جبکہ اُسی دن مسرت عالم سمیت دیگر حریت لیڈران کے خلاف درج ایف آئی آر میں بغاوت اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔ 22 اپریل کو اُن کی ضمانتی عرضی بڈگام کی عدالت میں زیر بحث آئی تھی جس دوران چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے طرفین کے دلائل اور جوابی دلائل سننے کے بعد 25 اپریل کو حتمی فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔

تاہم سی جے ایم نے 25 اپریل کو ہائی کورٹ کے ایک حکم نامے کو بنیاد بناکر مسرت عالم کی ضمانتی عرضی مسترد کردی تھی۔ جموں وکشمیر کی حکومت نے ضمانتی عرضی پر عدالتی فیصلہ آنے سے دو روز قبل ہی 22 اپریل کو مسرت عالم پر پی ایس اے عائد کرکے انہیں راتوں رات وسطی کشمیر کے پولیس اسٹیشن بڈگام سے جموں کی کوٹ بھلوال سنٹرل جیل منتقل کردیا تھا۔

Loading...

پی ایس اے جس کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 2011 میں اسے ایک غیرقانونی قانون قرار دے دیا تھا، کے تحت عدالتی پیش کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم چھ ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں جن پر یہ ایکٹ عائد کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔

جموں وکشمیر میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس قانون کے تحت 1300 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے جن میں سے تقریباً 900 افراد کی نظربندی ہائی کورٹ نے ختم کردی ہے۔ 1990 سے لے کر اب تک مسرت عالم پر 23 ویں دفعہ پبلک سیفی ایکٹ عائد کیا جاچکا۔ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت نے مسرت عالم کو چار سال بعد 7 مارچ کو بارہمولہ جیل سے رہا کیا تھا جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھاتاہم مفتی محمد سعید نے اس حوالے سے قانونی جواز پیش کیا تھا۔

تاہم بٹ کو 17 اپریل کو اشتعال انگیز سرگرمیوں اور ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزامات میں دوبارہ جیل جاناپڑا۔ اُن پر ایک بڑا الزام ہے کہ انہوں نے کشمیر میں 2010 کی ایجی ٹیشن کی قیادت کی جس دوران 120 کشمیری نوجوان مبینہ طور پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے۔ انہیں اکتوبر 2010 میں گرفتار کیا گیا تھا اور مارچ 2015 تک اُن پر مسلسل آٹھ مرتبہ پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا تھا۔

مسرت عالم سری نگر کے پرانے شہر کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سری نگر کے ایک مشہور اور پرانے مشنری اسکول بسکو سے حاصل کی ہے جبکہ سری نگر کے ایس پی کالج سے گریجویشن کی ہے۔

مسرت عالم 1987 میں مسلم متحدہ محاذ سے وابستہ ہوگئے اور پھر 1989 میں کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہونے کے ساتھ ہی اس کا حصہ بنے۔ انہیں 1990 میں پہلی بار گرفتار کرکے 1996 میں رہا کیا گیا تھا۔مسرت عالم اس وقت مسلم لیگ کے سربراہ ہیں جو سخت گیر حریت کانفرنس کی ایک ذیلی جماعت ہے۔

Loading...