نیپال میں دعوت و تعلیم کے اہم باب کا خاتمہ، مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری کی وفات

کرشنا نگر، نیپال۔ نیپال کے معروف عالم دین مولانا عبداللہ عبدالتواب مدنی جھنڈانگری(صدر مرکزالتوحید کرشنانگر، نیپال )کا دل کا دورہ پڑنے سے کاٹھمانڈو میں بروز منگل،یعنی آج بوقت دس بجے دن انتقال ہو گیا۔

Dec 22, 2015 12:19 PM IST | Updated on: Dec 22, 2015 03:54 PM IST
نیپال میں دعوت و تعلیم کے اہم باب کا خاتمہ، مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری کی وفات

کرشنا نگر، نیپال۔  نیپال کے معروف عالم دین مولانا عبداللہ عبدالتواب مدنی جھنڈانگری(صدر مرکزالتوحید کرشنانگر، نیپال )کا دل کا دورہ پڑنے سے  کاٹھمانڈو میں بروز منگل،یعنی آج بوقت دس بجے دن انتقال ہو گیا۔ مولانا کی عمر کم و بیش اکسٹھ برس تھی۔ موصوف جماعت اہل حدیث کے نامور اور چوٹی کے علماء میں سے تھے۔

وہ ہندوستان کی مشہور درسگاہ جامعہ سلفیہ بنارس و ندوۃ العلماء لکھنؤکے تعلیم یافتہ تھے، اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے ۱۹۸۱ء میں فراغت حاصل کی۔ آپ نے مختلف اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دیئے، موصوف کے زریں کارناموں میں مرکز التوحید کا قیام نیز مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات کی تاسیس ہے،وہ تاحیات مرکز التوحید کے صدر اور مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کے ناظم رہے نیز دونوں کو ہمہ جہت ترقی سے ہمکنار کرنے میں اپنا خون جگر جلایا اور مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کو ملک کی منفرد نسواں درسگاہ بنادیا۔

 عالم اسلام بالخصوص برصغیر ہندو نیپال، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور برطانیہ وغیرہ میں مختلف کانفرنسوں میں شرکت فرمائی اور کامیاب نمائندگی کی ، ۱۹۸۸ء  میں  نیپال کے اول مؤقر ماہنامہ مجلہ نور توحید کی داغ بیل ڈالی اور اس کے تاحیات مدیر مسئول رہے، یوں آپ کا قلم و قرطاس سے بڑا گہرا تعلق تھا۔ ترجمہ و تصنیف سے بھی آپ کا گہرا رابطہ تھا، آپ کا اداریہ اختصار مفید کا آئینہ دار ہوا کرتا تھا۔ جمعیت و جماعت سے جڑ کر آپ نے مختلف ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نبھایا،ساتھ ہی مختلف ٹی وی چینلوں سے آپ کی علمی و اصلاحی تقاریر نشر ہوتی رہی ہیں۔

آپ کی وفات پرملال علمی، تعلیمی و دعوتی دنیا کا عظیم خسارہ ہے، یہ سانحہ نہ صرف مرکز التوحید اور مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ ان کے پسماندگان، خاندان اور وابستگان مرکزو مدرسہ کے ساتھ پوری ملت و جماعت کے لئے بڑا ہی اندوہناک اور غمناک ہے۔

Loading...

فضیلۃ الشیخ عبدالرحمن بن حسین الفیفی،بندر ناصر ابوذیب، عبدالرحمن الشحینی، فہدالمجحد(سعودی عرب)، عبدالناصر الحارثی(سعودی سفیر برائے نیپال)، ڈاکٹر سعید احمد اثری مہتمم مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ، مولانا عبدالحنان صاحب فیضی،مولانا عبدالوہاب خلجی، دہلی، مولانا شمیم احمد ندوی جھنڈانگر،مولانا محمد ہارون سلفی(امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال) ،مولانا مظہر احسن اعظمی ازہری جامعہ عالیہ مئو، مولانا عبدالمنان سلفی، مولانا صلاح الدین مقبول احمد مدنی،مولانا شہاب الدین مدنی لکھنؤ، مولانا سلیم ساجد مدنی (سعودی عرب)، افضال احمد سلفی (قطر)، سہیل انجم دہلی، مولانا اسعد اعظمی بنارس،مولانا عبدالعظیم مدنی، زاہد آزاد جھنڈانگری،مولانا عبدالرشید مدنی و اساتذہ جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر، پرویز یعقوب مدنی ڈمریاگنج، مولانا مطیع اللہ مدنی، مولانا عبدالقیوم مدنی ، عرفان احمد صفوی نیز تمام وابستگان مرکز التوحید اور ملک و بیرون ملک کے متعدد اہل علم و فضل نے آپ کی وفات پراپنے شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت فرمائی اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی۔

صلاۃ جنازہ مورخہ: ۲۳؍دسمبر ۲۰۱۵ء بروز بدھ، بعدنماز ظہر ایک بجے کرشنانگر میں ادا کی جائے گی۔ ان شاء اللہ۔

Loading...