دھماکے کی دھمکی ملنے کے بعد پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ میں حفاظتی بندوبست سخت

پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کو 21 اگست کو دھماکے سے اڑانے اور ججوں کو ہلاک کرنے سے متعلق دھمکی بھرا خط ملنے کے بعد عدالت کے احاطے اور اس کے اطراف میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔

Aug 20, 2015 08:10 PM IST | Updated on: Aug 20, 2015 08:10 PM IST
دھماکے کی دھمکی ملنے کے بعد پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ میں حفاظتی بندوبست سخت

چنڈی گڑھ : پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کو 21 اگست کو دھماکے سے اڑانے اور ججوں کو ہلاک کرنے سے متعلق دھمکی بھرا خط ملنے کے بعد عدالت کے احاطے اور اس کے اطراف میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے ہیں۔سینئر پولس سپرنٹنڈنٹ منیش چودھری نے آج یہاں بتایا کہ چنڈی گڑھ پولس اس خط کو سنجیدگی سے لے رہی ہےاور ہائی کورٹ اوراس کے ججوں کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چنڈی گڑھ پولس، انٹلی جنس بیورو، پنجاب وہریانہ کی ریاستی پولس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں ہے حفاظتی بندوبست کے سلسلے میں ججوں اور بار ایسوسی ایشن کے ساتھ بھی میٹنگ ہوئی ہے۔دریں اثنا 21 اگست کافی نزدیک ہونے کے ساتھ پولس انتہائی چوکسی برت رہی ہے۔

عدالتی احاطے میں آنے جانے والی گاڑیوں اور لوگوں کی تلاشی لی جارہی ہے اور عدالت کا احاطہ اور اس کے اطراف کا علاقہ تقریبا چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ سینئر پولس اہلکار عدالت کے احاطے کا دورہ کرنے کے علاوہ تمام سرگرمیوں پر نظر رکھ رہے ہیں۔واضح رہے کہ ہائی کورٹ کو یہ دھمکی کا خط بدھ کے روز جالندھر پریس کلب کے نام بھیجا گیا تھا۔ یہ خط پنجابی زبان میں تحریر کیا گیا تھا۔ جس میں 21 اگست کو ہائی کورٹ میں دھماکہ کرکے ججوں کو مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

Loading...

Loading...