جموں و کشمیر میں مظاہرین پر فوج کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک ، صورتحال کشیدہ

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رتنی پورہ میں کل رات شروع ہونے والی جھڑپ منگل کو دوپہر کے وقت جنگجو تنظیم ’لشکر طیبہ‘ سے وابستہ دو مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوئی۔

Aug 11, 2015 09:31 PM IST | Updated on: Aug 11, 2015 09:31 PM IST
جموں و کشمیر میں مظاہرین پر فوج کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک ، صورتحال کشیدہ

سری نگر : جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رتنی پورہ میں کل رات شروع ہونے والی جھڑپ منگل کو دوپہر کے وقت جنگجو تنظیم ’لشکر طیبہ‘ سے وابستہ دو مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوئی۔تاہم علاقے میں صورتحال نے اُس وقت کشیدگی اختیار کرلی جب سیکورٹی فورسز نے دو جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کررہے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک عام نوجوان ہلاک ہوگیا۔ دریں اثنا حکومت نے ہلاکت کے واقعہ کی معیاد بند تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ایک سرکاری ترجمان نے بتایا کہ عوامی احتجاج کے دوران سیکورٹی فورسز کو کم سے کم طاقت کے استعمال کے لئے کہا گیا ہے تا کہ کسی عام شہری کو جسمانی طور کوئی نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے واقعہ کی معیاد بند تحقیقات کا حکم دیا ہے تا کہ قصورواروں کے خلاف کاروائی کر کے انہیں سزا دی جاسکے۔ جھڑپ کے دوران ہی کئی دیہات سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے ۔ سیکورٹی فورسز نے ان احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیاتھا۔ تاہم جھڑپ میں دو مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلنے کے بعد احتجاجی مظاہروں میں شدت پیدا ہوگئی اور مظاہرین و سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے رتنی پورہ سے ملحق ملنگ پورہ علاقے میں مظاہرین پر مبینہ طور پر براہ راست گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے بلال احمد بٹ نامی شدید زخمی ہوگیا۔زخمی بلال احمد کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ رتنی پورہ میں کل رات شروع ہونے والی جھڑپ منگل کو دوپہر کے وقت دو مقامی جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوئی۔ جھڑپ میں جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج کے 55 راشٹریہ رائفلز (آر آر) اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے ضلع پلوامہ کے رتنی پورہ گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر مذکورہ گاؤں میں کل رات مشترکہ آپریشن شروع کیا تھا۔

تاہم جب سیکورٹی فورسز ایک مخصوص جگہ کی جانب پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فائرنگ کی اور دستی بم پھینکا۔ سیکورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر جھڑپ چھڑ گئی۔ سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بلاکر مذکورہ علاقے کو سخت محاصرے میں لے لیا گیا تھا۔اگرچہ کل رات اندھیرا چھا جانے کے بعد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن معطل کردیا گیا تھا تاہم آج صبح سورج کی پہلی کرن کے نکلتے ہی آپریشن بحال کیا گیا۔ جنگجوؤں نے آج صبح ایک بار پھر سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین تازہ جھڑپ شروع ہوئی۔

Loading...

بتایا جارہا ہے کہ جنگجوؤں نے دھان کے کھیتوں میں پناہ لی تھی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا۔مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت شوکت احمد لون ساکن للہار کاکہ پورہ اور گلزار احمد بٹ ساکن تلنگام پلوامہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اسی ضلع کے کاکہ پورہ علاقے میں 6 اگست کو طالب احمد شاہ نامی لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کو ہلاک کیا گیا تھا۔

Loading...