وادی کشمیر میں 50 ہزار عورتیں بیوہ اور 2 لاکھ 25 ہزار بچے یتیم

اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وادی کشمیر میں بیواؤں کی تعداد 50ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں 12 ہزار نیم بیوائیں ہیں۔

Jul 05, 2015 11:40 AM IST | Updated on: Jul 05, 2015 11:40 AM IST
وادی کشمیر میں 50 ہزار عورتیں بیوہ اور 2 لاکھ 25 ہزار بچے یتیم

اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ وادی کشمیر میں بیواؤں کی تعداد 50ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں 12 ہزار نیم بیوائیں ہیں۔ اِس کے علاوہ 2 لاکھ 25 ہزار بچے یتیمی و یسیری کی زندگی گذر بسر کررہے ہیں ۔ ٹرسٹ کے چیرمین عبدالرشید ہانجورہ کے مطابق وادی میں بیواؤں اور یتیموں کی تعداد میں یہ غیر معمولی اضافہ پچھلی دوہائیوں کے پُر آشوب حالات میں درج ہوا ہے۔ اُن کے مطابق اِن بیواؤں اور یتیموں میں سے بیشتر ایسے ہیں جن کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ ہی نہیں ہے اور جنہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ وادی میں طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر ہانجورہ نے بتایا کہ اگر اس مسئلے پر ابھی روک نہیں لگائی گئی تو یہ اگلے چند برسوں میں معاشرے کیلئے سنگین خطرات کا موجب بنے گا۔ یواین آئی سے بات کرتے ہوئے آئی آر آر ٹی چیرمین نے بتایا کہ وادی کشمیر میں گذشتہ چند ایک برسوں کے دوران طلاق کے واقعات میں ایک غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا جو کہ پورے معاشرے کیلئے سنگین خطرات کا موجب بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں بیواؤں اور یتیموں کی مدد کیلئے اربوں روپے کی ضرورت ہے لیکن مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ وادی کی آبادی میں سے صرف 5 سے 6 فیصد زکواۃ ادا کرررہے ہیں جس کی ادائیگی کو اللہ نے قرآن پاک میں لازمی قرار دیا ہے۔

Loading...

Loading...