پڑھئے : دو بھائیوں کی نسلوں کی کہانی ، مذہب الگ ہونے کے باوجود نہیں بدلے دل کے رشتے

مین پوری : مین پوری کے كرہل تحصیل کا کوسما گاؤں ہندو ۔ مسلم اتحاد کی صدیوں سےمثال بنا ہوا ہے۔اس گاؤں کی تاریخ اور جغرافیہ بھی منفرد اور دلچسپ ہے۔ لگان نہ دینے کی وجہ سے آج سے تقریبا پانچ سو سال قبل شہنشاہ اکبر کے زمانے میں دو چھتری ریاستوں کے حکمرا ں بھائی مہان سنگھ اور چین سنگھ کو قید کرلیا گیا تھا ، مگر جان ومال کی امان کے بدلے میں دونوں کو اسلام مذہب اپنانا پڑا ۔

Jan 06, 2016 09:38 PM IST | Updated on: Jan 06, 2016 09:38 PM IST
پڑھئے : دو بھائیوں کی نسلوں کی کہانی ، مذہب الگ ہونے کے باوجود نہیں بدلے دل کے رشتے

مین پوری : مین پوری کے كرہل تحصیل کا کوسما گاؤں ہندو ۔ مسلم اتحاد کی صدیوں سےمثال بنا ہوا ہے۔اس گاؤں کی تاریخ اور جغرافیہ بھی منفرد اور دلچسپ ہے۔ لگان نہ دینے کی وجہ سے آج سے تقریبا پانچ سو سال قبل شہنشاہ اکبر کے زمانے میں دو چھتری ریاستوں کے حکمرا ں بھائی مہان سنگھ اور چین سنگھ کو قید کرلیا گیا تھا ، مگر جان ومال کی امان کے بدلے میں دونوں کو اسلام مذہب اپنانا پڑا ۔

تاہم بعد میں قید سے آزاد ہونے کے بعد چین سنگھ نے دوبارہ ہندو مذہب اپنا لیا جبکہ مہان سنگھ مسلمان ہی رہے۔ کمل گڈھ کا نام بھی كوسما ہوگیا۔ مہان خاں کی اولاد گاؤں کے مسلمین كوسما میں رہنے لگے۔ جبکہ اسی گاؤں میں چین سنگھ کی نسل ہنود كوسما میں رہنے لگے ۔ دونوں محلو ں کے درمیان ایک گلی حد فاصل کے طور پر کام کر رہی تھی ۔ تاہم یہ گلی دونوں بھائيوں کے دلوں کو کبھی تقسیم نہیں کر پائی۔

آج بھی دونوں بھائیوں کی اولاد وں کے مذہب الگ ہونے کے باوجود تہذیب میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کے تہواروں اور شادیوں میں خوب جوش و خروش کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔یہاں تک کہ بڑے بھائی کی روایت کو مہا سنگھ کی نسل یعنی مسلم کمیونٹی ادا کر رہی ہے۔ مہا سنگھ کی نسل کو اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی گریز نہیں کہ ان کے آباو اجداد نے مجبوری میں مذہب اگرچہ تبدیل کر لیا ہو، لیکن دل کے رشتے نہیں بدلے ۔

Loading...

Loading...