سماج وادی پارٹی کے ظلم و ستم کا جواب ہم 2017 میں دیں گے: مولانا جواد

گجرات میں پٹیل برادری پر پولیس کے تشدد اور لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا ہے کہ ہم گجرات میں اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے لوگوں پر پولیس کے ذریعہ تشدد اور لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہیں

Aug 29, 2015 08:23 AM IST | Updated on: Aug 29, 2015 08:23 AM IST
سماج وادی پارٹی کے ظلم و ستم کا جواب ہم 2017 میں دیں گے: مولانا جواد

لکھنؤ :  گجرات میں پٹیل برادری پر پولیس کے تشدد اور لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہا ہے کہ ہم گجرات میں اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے لوگوں پر پولیس کے ذریعہ تشدد اور لاٹھی چارج کی سخت مذمت کرتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی مذمت کرتے ہیں جو خود گجرات جیسا ماحول یوپی میں بنائے ہوئے ہیں اور محض دکھاوے کے لئے گجرات پولیس کی مذمت کر رہے ہیں۔

اتر پردیش کے کابینی وزیر محمد اعظم خاں کا نام لئے بغیر مولانا جواد نے کہا کہ سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لیڈر کا گجرات میں پولیس تشدد اور لاٹھی چارج پر بیان آیا ہے کہ بدقسمتی ہے کہ آزادی کے اتنے لمبے سفر کے بعد بھی جنرل ڈائر کی ذہنیت زندہ ہے ۔ یہ لیڈر شایداپنی ریاست میں شیعہ پر کئے گئے ظلم کو بھول گئے ہیں۔

مولانا نے کہا کہ ایس پی کے دور اقتدار میں اپنے حقوق کا جائز مطالبہ کر رہے شیعائوں کے ساتھ ایسا ہی تشدد کیا گیا ، نمازيوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، عورتوں اور بچوں کو مارا پیٹا گیا اور مظاہرہ کر رہے لوگوں کو فرضی مقدمے میں پھنساکر جیل میں ڈال دیا گیا، لیکن ایس پی لیڈروں نے اس پر خاموشی اختیار کر لی۔

مولانا نے کہا کہ ہم بھی تو اپنے کے آئینیحقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، وقف سیکورٹی کی بات کر رہے ہیں اور وقف میں ہوئی بدعنوانی کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ كرهے ہیں، مگر شیعہ کمیونٹی پر ظلم کیا جا رہا ہے ۔ کیا یوپی حکومت کا یہ نامناسب رویے قابل مذمت نہیں ہے؟۔

Loading...

مولانا نے کہا کہ ایس پی حکومت میں مظفر نگر میں فرقہ وارانہ تشدد ہوا، جس میں ہزاروں ہندو مسلمان مارے گئے، ہزاروں بے گھر ہوئے اور دوسرے شہروں میں بھی فسادات ہوتے رہتے ہیں ۔ اس کے لئے کیا حکومت ذمہ دار نہیں ہے؟

انہوں نے نے کہا کہ کوئی بھی حکومت ظلم کے ساتھ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتی ۔ شیعہ برادری اپنے حقوق کی مانگ کو لے کر پھر سے دھرنا شروع کرنے جا رہی ہے ۔ہم ریاستی حکومت کے ظلم اور ناانصافی کا جواب اب 2017 کے انتخابات میں دیں گے ، جس کی تیاریوں میں ہم مصروف ہوگئے ہیں ۔

Loading...