آئی ایس آئی ایس کا نہیں ہے اعظم گڑھ سے کوئی کنکشن

تر پردیش کے بلیا ضلع کے نوجوانوں کے دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہونے کی خبروں کو وہاں کی پولیس نے بکواس بتایا قرار دیا ہے

Aug 06, 2015 10:27 PM IST | Updated on: Aug 06, 2015 10:35 PM IST
آئی ایس آئی ایس کا نہیں ہے اعظم گڑھ سے کوئی کنکشن

اعظم گڑھ :  اتر پردیش کے بلیا ضلع کے نوجوانوں کے دہشت گرد تنظیم داعش میں شامل ہونے کی خبروں کو وہاں کی پولیس نے  بکواس بتایا قرار دیا ہے ۔  اعظم گڑھ سیکشن کے پولیس ڈی آئی جی پرشانت کمار نے جمعرات کو کہا کہ اعظم گڑھ کا آئی ایس آئی ایس سے کنکشن کی خبر افواہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کی تحقیقات یا خفیہ رپورٹ میں ایسی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ داعش کا اعظم گڑھ سے کوئی کنکشن ہے ۔

پولیس ڈی آئی جی پرشانت کمار نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اعظم گڑھ کے کسی بھی نوجوان نے آئی ایس آئی ایس کو جوائن نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی خبروں کو قابل اعتنا نہ سمجھا جائے ، ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔  ڈی آئی جی نے کہا کہ میڈیا میں گمراہ کن اور جھوٹی خبریں چل رہی ہیں ، اس میں ذرہ برابر بھی سچائی نہیں ہے ۔

جب ان سے ایک صحافی نے پوچھا کہ اعظم گڑھ کو دہشت گردی کی نرسری کیوں کہا جاتا ہے؟ اس سوال پر ڈی آئی جی بھڑک گئے اور کہا کہ اس طرح کی باتیں کرنے والے بتائیں کہ دنیا کے کس حصے میں مجرم نہیں ہیں ۔ چند لوگوں کی وجہ سے پورے ضلع کو دہشت گرد نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ اسی اعظم گڑھ کی سرزمین پر کیفی اعظمی اور راہل سانكرتياين جیسی ہستیاں بھی پیدا ہوئی ہیں ، ان کا نام تو کوئی نہیں لیتا ہے اور چند مجرمانہ شبیہ والے لوگوں کی وجہ سے پورے ضلع کو بدنام کرنا سراسر غلط ہے ۔

Loading...

قابل ذکر ہے کہ میڈیا میں اعظم گڑھ کے سنجر پور میں رہنے والے محمد ساجد کے شام میں داعش کی طرف سے لڑتے ہوئے مارے جانے کی خبر آئی تھی ، اس کے بعد اعظم گڑھ کے کچھ اور نوجوانوں کے اس بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہونے کی خبریں پھیلنی شروع ہو گئی تھیں ۔

Loading...