ہوم » نیوز » No Category

کورونا کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات مسلسل متاثر، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

سرکار نے ٹرانسپورٹ کو بحال کرنے سے قبل ایس او پی جاری کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مسافر بردار ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی تعداد کو کم کیا جائے جس کے لیے 30 فی صدی کرایہ کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی جموں کشمیر میں ٹرانسپورٹ بحال نہیں ہو سکا اور اس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

  • Share this:
کورونا کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات مسلسل متاثر، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا
کورونا کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ خدمات مسلسل متاثر

جموں۔ کورونا وائرس کی صورتحال کی وجہ سے جہاں عام زندگی لگاتار پٹری سے نیچے ہے وہیں عوامی ٹرانسپورٹ کے لگاتار متاثر رہنے کی وجہ سے عوام کو بھی شدید مشکلات درپیش ہیں۔ جبکہ ٹرانسپورٹرز اور اس سے منسلک دیگر افراد کی معاشی صورتحال میں بھی کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی ہے۔ کورونا کے ابتدائی معاملات منظر عام پر آنے کے بعد سرکار نے پورے جموں کشمیر میں عوامی ٹرانسپورٹ کے نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ جسکے بعد لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے سڑکیں سنسانی کا منظر بیان کر رہی تھیں۔ تاہم لاک ڈاؤن میں نظر ثانی کے بعد مسافر بردار ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی اگرچہ راحت دینے کا فیصلہ لیا گیا لیکن یہ فیصلہ ٹرانسپورٹ صنعت کےلئے بار آور ثابت نہیں ہو پایا۔


سرکار نے ٹرانسپورٹ کو بحال کرنے سے قبل ایس او پی جاری کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مسافر بردار ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی تعداد کو کم کیا جائے جس کے لیے 30 فی صدی کرایہ کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا لیکن اس کے باوجود بھی جموں کشمیر میں ٹرانسپورٹ بحال نہیں ہو سکا اور اس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جس میں طالب علم اور مزدور طبقہ سرفہرست ہے۔


نیوز18 نے اس حوالے سے جب لوگوں سے رائے طلب کی تو مختلف ردعمل سامنے آئے۔ جموں کے ایک طالب علم قاسم کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے دوران انہیں کافی مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ تعلیم کے سلسلے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے جموں میں میٹاڈور سروس کا ہونا اہم ہے کیونکہ عام آدمی کی آمدنی کے تناظر سے اس طرح کی سروس کافی سود مند ہے۔ لیکن اس سروس کی عدم دستیابی سے ان کی آمدنی پر مزید بوجھ پیدا ہوتا ہے۔ ادھر تاجر اور مزدور طبقے کے بھی کچھ اسی طرح کے تاثرات ہیں۔ سشیل کمار نامی دکاندار کا کہنا ہے کہ کورونا نے پہلے ہی یہاں پر تجارت اور کاروبار کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ایسے میں ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی انکی مشکلات میں مزید سختی پیدا کر رہی ہے۔ جبکہ مزدوروں کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کےلئے بھی کافی مشکلات جھیلنے پڑ رہے ہیں۔


بعض لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ موجودہ وبائی صورتحال کے درمیان مسافر بردار ٹرانسپورٹ کو بحال کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے اور اس سے وبا کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ ادھر ٹرانسپورٹ طبقہ بھی لگاتار نقصانات سے دوچار ہو رہا ہے جس کی وجہ سے اکثر ٹرانسپورٹرز نے خدمات بند کر دی ہیں۔ جبکہ اکثر ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے بینکوں سے قرضوں پر گاڑیاں لی ہیں جس کی ماہانہ قسط ادا کرنے سے بھی وہ لوگ قاصر ہیں۔ رمیش جموال نامی ایک ٹرانسپورٹر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران کئی ڈرائیور اور ٹرانسپورٹر دانے دانے کے لئے محتاج ہو گئے ہیں ایسے میں اب تمام تر نظریں سرکاری امداد پر مرکوز تھیں لیکن اس حوالے سے تاحال سرکار نے کسی بھی مالی پیکیج کا اعلان نہیں کیا ہے۔  واضح رہے کہ مارچ کے بعد ملک میں کورو نا کے بڑھتے معاملات کی وجہ سے جموں کشمیر بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ ایسے میں تعمیر و ترقی کا ضامن ٹرانسپورٹ شعبہ بھی اب آہستہ آہستہ دم توڑتا نظر آ رہا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Aug 22, 2020 08:23 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading