کرناٹک اردو اکیڈمی کے تحت بنگلورو کےعلی پور میں مرثیہ نگاری پرسمینار کا انعقاد

کرناٹک۔ اردوادب میں مرثیہ نگاری کا جب ذکرہوتا ہےتوتین بڑے نام اُبھرکرسامنےآتے ہیں ۔

Nov 01, 2016 07:16 PM IST | Updated on: Nov 01, 2016 07:16 PM IST
کرناٹک اردو اکیڈمی کے تحت بنگلورو کےعلی پور میں مرثیہ نگاری پرسمینار کا انعقاد

کرناٹک۔ اردوادب میں مرثیہ نگاری کا جب ذکرہوتا ہےتوتین بڑے نام اُبھرکرسامنےآتے ہیں ۔  میرانیس، مرزادبیر اورمحمد رفیع سودا۔ ان شہرآفاق مرثیہ نگاروں کے علاوہ جنوبی ہندوستان میں بھی کئی مرثیہ نگارگذرے ہیں لیکن انکی مرثیہ نگاری پربہت کم توجہ دی گئی ہے۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کے تحت منعقدہ سمینار میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا۔ بنگلورو کےقریب واقع علی پور میں  مرثیہ نگاری پرایک روزہ سمینار منعقد ہوا۔ اس سمینار میں مرثیہ کی تاریخ اور موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کے تحت منعقدہ سمینار میں مقالہ نگاروں نے کہا کہ جنوبی ہندوستان میں گول کنڈہ کی قطب شاہی اور بیجاپور کی عادل شاہی حکومتوں کے دوران مرثیہ  نگاری کو خاصا فروغ ملا۔ یہ مرثیہ نہ صرف اردو ادب بلکہ عوامی ادب کا بھی حصہ بن چکے ہیں ۔

اس موقع پر حیدرآباد کےعالم دین اعجاز فرخ نےمرثیہ نگاری میں پیام انسانیت کے عنوان پرکلیدی خطبہ پیش کیا۔ اعجاز فرخ نے کہا کہ مرثیہ کی روایت نےسماج میں ہمیشہ انسانیت اوراخلاقیات کومضبوط کیا ہے۔ سمینار میں مرثیہ نگاری کی تاریخ پرروشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ  مرثیہ نگاری میں رشتوں کی اہمیت، پیغام جذبہ ایثار، پیغام انسانیت پرمقالے پیش کئےگئے۔

Loading...

Loading...