ٹارگیٹ پورا کرنے کی کوشش میں غیر شادی شدہ قبائلی نوجوان کی نسبندی

جبل پور : نسبندی کا ہدف پورا کرنے کے چکر میں قبائلی اگریا ذات کے ایک غیر شادی شدہ نوجوان دیپک اگریا کی محکمہ صحت کے ذریعہ نس بندی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، جس کے بعد نسبندی کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ اس معاملہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب نوجوان کو درد ہونے لگا۔

Feb 01, 2016 09:57 PM IST | Updated on: Feb 01, 2016 09:58 PM IST
ٹارگیٹ پورا کرنے کی کوشش میں غیر شادی شدہ قبائلی نوجوان کی نسبندی

جبل پور : نسبندی کا ہدف پورا کرنے کے چکر میں قبائلی اگریا ذات کے ایک غیر شادی شدہ نوجوان دیپک اگریا کی محکمہ صحت کے ذریعہ نس بندی کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ، جس کے بعد نسبندی کا معاملہ ایک بار پھر موضوع بحث بن گیا ہے۔ اس معاملہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب نوجوان کو درد ہونے لگا۔

انوپ پور ضلع میں یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔یہاں پر ہدف پورا کرنے کے چکر میں کئی مرتبہ ایسا واقعہ سامنے آ چکا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ قبائلی نوجوان دیپک كوتما ریلوے اسٹیشن پر واقع ستکار ہوٹل میں نوکری کرتا ہے۔ اس نے درد ہونے کی شكايت ہوٹل مالک انل جین سے کی ، جس کے بعد انیل جین نے قبائلی نوجوان کو تھانے لے جاکر جعل سازی سے کی گئی اس کی نسبندی کی شكايت درج کرائی۔

بتایا جاتا ہے کہ كوتما رکے رہنے والے 18 سالہ دیپک اگریا کو اس کا دوست 70 کلومیٹر دور راجیندر گرام میں منعقدہ نسبندی کیمپ لے گیا اور بخار کا علاج کرانے کے بہانے اس کی نسبندی کرا دی۔ کیمپ میں اس کا اندراج دیپک اگریا کی بجائے دیپک پٹیل کے نام سے کیا گیا تھا۔

Loading...

یہی نہیں مرد کی نسبندی پر حکومت کی طرف سے ملنے والی حوصلہ افزائی کی رقم 22 سو روپے کی بجائے نوجوان کو صرف 17 سو روپے ہی دئے گئے ۔باقی ماندہ رقم اس کے دوست نے رکھ لی ۔

ادھر شکایت ملنے کے بعد پولیس جانچ کرنے میں مصروف ہوگئی ہے۔مدھیہ پردیش میں محفوظ دیپک کے قبیلے کے لوگوں کی نسبندی نہیں ہو سکتی ہے، اس کے باوجود بھی محکمہ صحت ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے چکر میں محفوظ قبیلے کے لوگوں کی نسبندی کرا رہا ہے، جو مستقبل کے لئے مہلک ہے۔

Loading...