உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آنکھوں کی بینائی سے محروم کولکاتہ کی الفیہ تونڈاوالا نے ٹیچر کے طور پر  بنائی منفرد پہچان 

    آنکھوں کی بیناٸی سے محروم کولکاتہ کی الفیہ تونڈاوالا نے ٹہچر کے طور پر  بنائی منفرد پہچان 

    الفیہ کے مطابق شروع میں انہیں ٹیچر کے طور پر دیکھنا کالج کے اساتذہ و طلبہ کے لٸے بھی مشکل تھا ۔ ہر ایک کا یہی سوال تھا کہ وہ کیسے تعلیم دے پائیں گی ، لیکن آج الفیہ کالج کی مقبول و ہردلعزیز ٹیچر ہیں ، جن سے طلبہ کو کافی انسیت ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    ماں کی گود بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ، جہاں سے وہ بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ لیکن بچوں کو سنوارنے میں اور ان کی نشونما میں ان کے اساتذہ کا اہم رول ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے سماج میں اساتذہ کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے ۔ ملک بھر میں ایسے ہزاروں ٹیچرس ہیں ، جنہوں نے اپنی الگ پہچان بناٸی ہے اور بچوں و سماج کے لٸے رول ماڈل ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک کولکاتہ کی الفیہ تونڈاوالا بھی ہیں ، جو آنکھوں کی بینائی سے محروم ہیں ۔ لیکن طلبہ میں علم کی روشنی بکھیر رہی ہیں ۔

    بچپن میں نارمل رہی الفیہ کی 13 سال کی عمر سے آنکھوں کی بیناٸی کمزور ہوتی گئی ۔ پہلے انہیں سورج کی روشنی میں کچھ کچھ نظر آتا تھا ، لیکن دھیرے دھیرے یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا اور الفیہ مکمل طور پر بیناٸی سے محروم ہوگئیں ۔ لیکن دنیا کو نہ دیکھ پانے کے باوجود الفیہ نے علم کا ساتھ نہیں چھوڑا اور انہوں نے اپنا تعلیمی سلسلہ برقرار رکھا اور پالیٹیکل ساٸنس میں ایم اے و پی ایچ ڈی کرنے کے بعد انہیں کولکاتہ کے ساوتری گرلس کالج میں اسسٹینٹ پروفیسر کی نوکری ملی ۔

    بچپن میں نارمل رہی الفیہ کی 13 سال کی عمر سے آنکھوں کی بیناٸی کمزور ہوتی گئی ۔ پہلے انہیں سورج کی روشنی میں کچھ کچھ نظر آتا تھا ، لیکن دھیرے دھیرے یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا اور الفیہ مکمل طور پر بیناٸی سے محروم ہوگئیں ۔
    بچپن میں نارمل رہی الفیہ کی 13 سال کی عمر سے آنکھوں کی بیناٸی کمزور ہوتی گئی ۔ پہلے انہیں سورج کی روشنی میں کچھ کچھ نظر آتا تھا ، لیکن دھیرے دھیرے یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا اور الفیہ مکمل طور پر بیناٸی سے محروم ہوگئیں ۔


    الفیہ کے مطابق شروع میں انہیں ٹیچر کے طور پر دیکھنا کالج کے اساتذہ و طلبہ کے لٸے بھی مشکل تھا ۔ ہر ایک کا یہی سوال تھا کہ وہ کیسے تعلیم دے پائیں گی ، لیکن آج الفیہ کالج کی مقبول و ہردلعزیز ٹیچر ہیں ، جن سے طلبہ کو کافی انسیت ہے ۔ الفیہ تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی کونسلنگ بھی کرتی ہیں ۔ جب طلبہ کو ان کے گھروالوں کی جانب سے تعلیم چھوڑ کر شادی کے لٸے دباو بنایا گیا تو الفیہ نے ان کے گھر والوں کے ساتھ بات چیت کے بعد اپنی اسٹوڈینٹس کے مساٸل کو حل کیا ۔

    الفیہ کے مطابق زندگی میں ایک بڑی محرومی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ یہی سوچا کہ انہیں کچھ کرنا ہے ، جس کے لٸے انہوں نے اس پیشہ کا انتخاب لہا اور وہ خوش ہیں کہ وہ طلبہ کو سیکھاتی ہیں ، سمجھاتی ہیں ، جس کا اثر طلبہ پر پڑتا ہے ۔ الفیہ کے مطابق جب وہ اپنے طلبہ کو کامیاب دیکھتی ہیں ، تو انہیں کافی خوشی ہوتی ہے ۔ ان کے مطابق انسان کو اپنی محرومیوں کا رونا رونے کی بجاٸے آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنا چاہٸے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: