پلوامہ حملہ: حراست میں لئے گئے 23 لوگ، جیش محمد سے تعلقات کا ہے شک

سکیورٹی فورسز نے پاکستانی دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے تعلقات کے شک میں پوچھ گچھ کے لئے 23 کشمیریوں کو تحویل میں لیا ہے۔

Feb 18, 2019 11:49 AM IST | Updated on: Feb 18, 2019 12:35 PM IST
پلوامہ حملہ: حراست میں لئے گئے 23 لوگ، جیش محمد سے تعلقات کا ہے شک

جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے پاکستانی دہشت گرد تنظیم جیش محمد سے تعلقات کے شک میں پوچھ گچھ کے لئے 23 کشمیریوں کو حراست میں لیا ہے۔  بتا دیں کہ 14 فروری کو جمعرات کے روز جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کی ٹکڑی پر فدائین حملہ کیا گیا تھا جس میں 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔ اس حملہ کی ذمہ داری پاکستانی دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے لی تھی۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پولیس کے ایک سینئر افسر کے حوالے سے بتایا کہ جن 23 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، یہ یا تو جیش محمد سے سیدھے طور پر جڑے ہیں یا پھر اس کی حمایت کرتے ہیں۔

Loading...

سکیورٹی افسران نے بتایا کہ اتوار کے روز این آئی اے نے مشتبہ افراد سے دھماکہ کو لے کر پوچھ گچھ کی۔ ذرائع نے بتایا کہ، ’’ وہ لوگ جیش محمد کے ٹاپ کمانڈرس اور اس کے کشمیر چیف تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔

سمجھا جاتا ہے کہ کشمیر میں سرگرم جیش کمانڈر محمد عمر  نے سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے حملہ کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس نے ہی فدائین حملہ آور عادل کا برین واش کر اسے حملہ کے لئے تیار کیا تھا۔  سلامتی دستوں کو شک ہے کہ وہ جنوبی کشمیر میں ہی کہیں چھپا ہوا ہے۔ عمر پچھلے سال ستمبر میں پاکستان سے کشمیر آیا تھا۔

 

 

 

Loading...