اخلاق کے بیٹے سرتاج کا دعوی، دادری معاملے میں تازہ فارنسک رپورٹ من گھڑت

اخلاق کے بیٹے سرتاج نے کہا کہ ان کے خلاف سازش رچی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو گوشت کے نمونے لئے گئے تھے ، وہ ان کے گھر سے نہیں کہیں اور سے لئے گئے تھے اور پولیس اس کو سیل بند کئے بغیر ہی لیب لے گئی ۔

Jul 26, 2016 08:18 PM IST | Updated on: Jul 26, 2016 08:33 PM IST
اخلاق کے بیٹے سرتاج کا دعوی، دادری معاملے میں تازہ فارنسک رپورٹ من گھڑت

لکھنؤ : اترپردیش میں گوتم بدھ نگر کے دادری گاؤں میں محمد اخلاق کے گھر میں ملے گوشت کے ٹکڑوں کی تازہ فارنسک رپورٹ کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اخلاق کے بڑے بیٹے سرتاج نے آج کہا کہ ان کے خاندان کے خلاف سازش کی جا رہی ہے جس کے خلاف خاندان اعلی عدالت میں اپیل کرے گا۔

سرتاج نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ متھرا فارنسک رپورٹ مکمل طور من گھڑت ہے اور رپورٹ کے کئی حصے الجھانے والے ہیں۔ اس نے سوال کیا کہ ابتدائی رپورٹ میں دو کلو گوشت بتایا گیا تھا ، جبکہ متھرا کی رپورٹ میں گوشت کی مقدار چار کلو کہا گیا ہے۔ہم تازہ فورنسك رپورٹ کو چیلنج کرنے کے لئے عدالت کا دروازہ كھٹكھٹائیں گے۔

سرتاج نے الزام لگایا کہ متھرا لیبارٹری بھیجنے سے پہلے ملے گوشت کے نمونے کے ساتھ سےچھیڑ چھاڑ کی گئی۔ اس کے پیچھے کی واحد وجہ ان کے والد کے قاتلوں کو بچانا تھا۔ حال ہی میں گریٹر نويڈا کی ایک عدالت نے متھرا فورنسك رپورٹ کی بنیاد پر اخلاق کے اہل خانہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ سرتاج نے کہا کہ اس نے 23 جولائی کو مرکزی وزیر داخلہ کو چار صفحات کا ایک خط لکھ کر اپنے خاندان کے خلاف کی جارہی سازش کی پھر سے جانچ کرانے کی مانگ کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں دادری کے بساہڑا گاؤں میں گائے کے گوشت کے استعمال کا الزام ​​لگا کر مشتعل بھیڑ نے اخلاق اور اس کے بیٹے پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں اخلاق کی موت ہو گئی جبکہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہو گیا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں مقامی بی جے پی لیڈر سنجے رانا کے بیٹے سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ مقامی فورنسک لیبارٹری نے گوشت کے نمونو ں کو بکرےکا بتایا تھا جس کے بعد 15 لوگوں کے خلاف پولیس نے چارج شیٹ داخل کی تھی۔

Loading...

Loading...