الحسین پبلک اسکول نامی مدرسہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال، قرآن اوررامائن کی تعلیم ایک ساتھ

فرقہ وارانہ ماحول میں ترپردیش کے بارہ بنکی ضلع میں الحسین پبلک اسکول نامی مدرسہ میں قرآن کی آیتیں اوررامائن کی چوپائیاں ایک ساتھ پڑھائی جاتی ہیں۔ فرقان اختر نےسماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دینے کے لئے ایسا کارنامہ انجام دیا ہے۔

May 23, 2018 05:13 PM IST | Updated on: May 23, 2018 05:32 PM IST
الحسین پبلک اسکول نامی مدرسہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال، قرآن اوررامائن کی تعلیم ایک ساتھ

بارہ بنکی: ملک میں آئے دن  ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد  کے واقعات کے درمیان اترپردیش کے بارہ بنکی ضلع میں انوکھی تصویر سامنے آئی ہے۔ یہاں کے ایک مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو  قرآن کی آیتوں کے ساتھ ساتھ رامائن کی چوپائیاں بھی پڑھائی جاتی ہیں۔ سماج میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا پیغام دینے والی اس پہل کو آج سبھی سلام کررہے ہیں۔

بارہ بنکی ضلع میں کوٹھی تھانہ علاقہ کے بیلوا قصبہ میں چل رہے ایک مدرسے نے فرقہ وارانہ اتحاد کی مثال پیش کی ہے۔ ایک طرف تمام سیاسی حکمراں مذہب کے نام پر معاشرے کو تقسیم کرکے اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہیں۔ وہیں دوسری طرف 32 سال کے نوجوان قاضی فرقان اختر نے ایک ایسی مہم شروع کی ہے، جو لوگوں کے لئے مثال بن رہی ہے۔ الحسین پبلک اسکول کے نام کے اس مدرسے میں فرقان اختر بچوں کو قرآن کی آیتوں کے ساتھ ساتھ رامائن کی چوپائیوں کی بھی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسا کرنے کے پیچھے فرقان کا بہت بڑا مقصد ہے۔ فرقان کا ماننا ہے کہ ان کی اس پہل سے بچوں کے اندر تمام مذاہب کے لئے احترام بڑھے گا اور وہ اسے سمجھ سکیں گے۔

Loading...

قاضی فرقان اختر اپنے مدرسے میں مذہبی کتابوں کے ساتھ بچوں کو انگلش پڑھانے پر بھی زبردست زور دیتے ہیں۔ فرقان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنا ہے۔ لوگ سوچتے ہیں کہ مدرسے میں صرف مسلم بچے ہی پڑھنے آتے ہیں، جبکہ ایسا نہیں ہے۔ فرقان کا کہنا ہے کہ مدرسہ تو ایک عربی لفظ ہے، جس کا مطلب بھی اسکول ہی ہے۔ تو پھر آپ اسے کسی مخصوص مذہب سے کیسے جوڑ سکتے ہیں، اس لئے ہم اپنے مدرسے میں قرآن اور رامائن دونوں پڑھاتے ہیں۔ فرقان کے مطابق ان کے مدرسے میں بچوں کو ماڈرن ایجوکیشن دی جاتی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے پرائیویٹ اسکولوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 11 سال باہر رہنے کے بعد نوکری چھوڑ کر گائوں میں مدرسہ کھولنے والے فرقان نے اپنی جرنلزم کی پڑھائی دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی سے کی ہے۔ فرقان کا کہنا ہے کہ ایک بار وہ دہلی سے چھٹیاں منانے اپنے گاوں آئے تھے، اس دوران انہیں یہاں کچھ بچے ملے جو پڑھنا چاہتے تھے، لیکن آس پاس کوئی اچھا اسکول نہ ہونے کے سبب ان کو بہتر تعلیم نہیں مل پائی۔ بچوں کی اس لاچارگی کو دیکھ کر میں نے اپنی نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور یہاں ایک مدرسہ کھولنے کا منصوبہ بنایا۔ آج ہم سب کی محنت رنگ لائی اور یہ مدرسہ منظور شدہ ہوگیا ہے۔

اتنا ہی نہین اس مدرسے میں دونوں مذہب کے اساتذہ کی تقرری کی گئی ہے۔ مرسہ میں پڑھانے والی استاد رینا ورما کا کہنا ہے کہ یہاں مذہب کو لے کر کوئی دیوار نہیں ہے۔ سماج میں تمام لوگ مذہب کو لے کر ایک دوسرے کے ساتھ غلط برتاو کرتے ہیں، لیکن ہمارے مدرسے میں ایسا کچھ نہیں ہے، یہاں ہندو ہوں یا مسلم سبھی مل جل کر رہتے ہیں۔

وہیں مدرسہ میں پڑھنے والے بچوں سے بات کرنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ  یہاں تمام موضوع کی پڑھائی کرتے ہیں۔ کئی بچوں نے بتایا کہ ان کے والد کسان ہیں، اس مدرسے میں آنے کے بعد اب انہیں پڑھائی کو لے کر کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔

فرقان کا کہنا ہے کہ دنیا میں پیسے تو سبھی کماتے ہیں، لیکن اگر کچھ سماجی خدمت بھی کی جائے تو اس سے بڑی نیکی کا کام کچھ نہیں ہوسکتا۔ اسی نیت کے ساتھ میں نے بچوں کو تعلیم دینے کا ٹھان لیا، میرا مقصد اچھا تھا، اس لئے شروع میں جن لوگون نے میری مخالفت کی تھی، بعد میں وہ سبھی لوگ میرے ساتھ آگئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ہندو اور مسلم دونوں مذاہب کے بچوں کی ایک ہی چھت کے نیچے پڑھائی کراتے ہیں۔

 

انیرودھ شکلا کی رپورٹ

 

 

Loading...