کشمیر میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف مظاہرہ کرنے کی اپیل کے بعد تمام تعلیمی ادارے بند

سرینگر۔ وادیٔ کشمیر میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف علیحدگی پسند لیڈروں کی آج اسٹو ڈنٹس سے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں مظاہرہ کرنے کی اپیل کے بعد انتظامیہ نے یہاں کے سبھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Oct 12, 2017 01:11 PM IST | Updated on: Oct 12, 2017 01:11 PM IST
کشمیر میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف مظاہرہ کرنے کی اپیل کے بعد تمام تعلیمی ادارے بند

وادی کشمیر میں نامعلوم افراد کی جانب سے خواتین کی چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف مقامی لوگ جمعہ کے روز سری نگر میں احتجاج کرتے ہوئے: فائل فوٹو۔

سرینگر۔ وادیٔ کشمیر میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف علیحدگی پسند لیڈروں کی آج اسٹو ڈنٹس سے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں مظاہرہ کرنے کی اپیل کے بعد انتظامیہ نے یہاں کے سبھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کشمیر کے ڈویژنل کمشنر بصیر احمد خاں نے احتیاطاً آج سبھی سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں،کالجوں اور دوسرے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا۔ اننت ناگ،پلوامہ اور بارہمولہ کے ڈپٹی کمشنروں نے بھی سبھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کے احکامات دیئے۔

وادیٔ کشمیر کے بیشتر تعلیمی اداروں میں کل سے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوا تھا۔ سالانہ امتحانات کو مقررہ پروگرام کے مطابق پیر سے شروع ہونا تھا، لیکن وادی میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کو لیکر علیحدگی پسند رہنماؤں کی ہڑتال کے اعلان کی وجہ سے امتحانات مقررہ وقت پر نہیں ہوسکے۔ کشمیر یونیورسٹی نے آج حکم جاری کر کے سبھی کلاسوں کو رد کردیا ہے۔ لیکن تمام امتحانات مقررہ پروگرام کے مطابق ہی ہوں گے۔

سید علی شاہ گیلانی،میر واعظ مولوی عمر فاروق(جے آر ایل گروپ)،اورعلیحدگی پسند لیڈر یٰسین ملک کی جانب سے 14 اکتوبر کی ’پولو گاؤنڈ چلو‘ ریلی کے معطل ہونے کے اعلان کے بعد اسٹوڈنٹس سے اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں چوٹی کاٹنے کے واقعات کے خلاف احتجاج و مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

Loading...

Loading...