اوقاف کی جائیداد کا استعمال مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے ہو : الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر وقف کی جائیداد مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی ہے ، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔

Nov 13, 2016 01:00 PM IST | Updated on: Nov 13, 2016 01:01 PM IST
اوقاف کی جائیداد کا استعمال مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے ہو : الہ آباد ہائی کورٹ

الہ آباد : الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر وقف کی جائیداد مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے استعمال کی جا رہی ہے ، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ ساتھ ہی ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے سوال کیا کہ کیا اوقاف کی زمینوں کا استعمال مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے ؟ ۔

قابل ذکر ہے کہ یو پی کے رام پور ضلع کے ٹانڈا قصبہ میں واقع وقف مسجد کہنہ کی زمین ریاستی حکومت نے انٹر کالج قائم کرنے کے مقصد سے اپنی تحویل میں لے لی ہے اور اس عوض میں ریاستی حکومت نے مسجد انتظامیہ کو 90 ہزار روپئے سالانہ بطور کرایہ ادا کرنے کی بات کہی ہے ۔ لیکن مسجد انتظامیہ نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عارضی داخل کرکے ریاستی حکومت کے فیصلہ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کو زمین کا معقول معاضہ ملنا چاہئے ۔ عدالت نے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ اگر وقف کی زمین پر تعمیر ہونے والا کالج مسلمانوں کو مفت تعلیم دینے کی گارنٹی دے ، تو درخواست گزار کو وقف کی زمین دینے کے لئے راضی کیا جا سکتا ہے ۔

Loading...

Loading...