امت شاہ بی جے پی کے نصف ارکان پارلیمنٹ کے کام کاج سے ناخوش، انتخابات میں کٹ سکتا ہے ٹکٹ

امت شاہ کی مرزا پوراورآگرہ کی دوروزہ جائزہ میٹنگ نے پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ پارٹی کارکنوں سےملی اطلاع سےمعلوم ہوتاہےکہ انہوں نےزیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کے کام کاج پرناراضگی ظاہر کی ہے۔

Jul 06, 2018 08:48 PM IST | Updated on: Jul 06, 2018 08:50 PM IST
امت شاہ بی جے پی کے نصف ارکان پارلیمنٹ کے کام کاج سے ناخوش، انتخابات میں کٹ سکتا ہے ٹکٹ

امت شاہ: فائل فوٹو

لکھنؤ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کےقومی صدر امت شاہ کی مرزا پوراورآگرہ کی دوروزہ جائزہ میٹنگ نے پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے اورپارٹی کارکنوں سےملی اطلاع سےمعلوم ہوتاہےکہ انہوں نےزیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کے کام کاج پرناراضگی ظاہر کی ہے۔

بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے جمعہ کو يواین آئی کو بتایا کہ میٹنگ کا مقصد پارٹی کارکنوں سے زمینی حالات کی معلومات حاصل کرنا تھا۔ امت شاہ نے آگرہ میں بھی ہوئی میٹنگ کے دوران ممبران پارلیمنٹ کے کام کاج پر عدم اطمینان ظاہرکیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کارکنوں سے جواطلاعات ملی ہیں، اس کی بنیاد پرلگتا ہے کہ موجودہ ممبران پارلیمنٹ میں سے تقریباً نصف کا ٹکٹ کٹ سکتا ہے۔

پارٹی کی سختی کا اندازاس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مرزاپورمیں جب بی جے پی صدر بی جے پی اورآرایس ایس کارکنوں کے ساتھ بدھ کو میٹنگ کر رہے تھے تواس وقت ممبران پارلیمنٹ کو باہرہی انتظار کرنے کو کہا گیا تھا۔

Loading...

یہ بات اس وقت اور صاف ہو گئی جب امت شاہ نے گورکھپوراوراودھ کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ میں کہا کہ آپ کے کام کاج سے میں مطمئن نہیں هوں۔ انہوں نے کانپوراوربندیل كھنڈ کے ارکان پالیمنٹ کے کام کاج پر بھی عدم اطمینان کااظہار کیا۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ لوک سبھا کے لئے امیدواروں کاانتخاب ان کے کاموں کے بارے میں حاصل رپورٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

میٹنگ میں ایک بات یہ بھی کھل کر سامنے آئی کہ زیادہ ترارکان پارلیمنٹ مرکزی حکومت کی اسکیموں کے بارے میں ٹھیک سے نہیں جانتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایم پی گرام چوپال پروگراموں میں رات کے وقت نہیں ركتے ہیں۔ پارٹی کے قومی صدر سے یہ بھی شکایت کی گئی کہ زیادہ تر ایم پی ووٹر لسٹ بنوانے میں کوئی دلچسپی نہیں لےرہےہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی صدرزمینی حقیقت جاننے کے بعد کافی ناراض نظرآئے۔ ان کوبتایا گیا کہ زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کا ووٹروں سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

Loading...