اجودھیا میں وشو ہندو پریشد کی مجوزہ دھرم سبھا سے مسلمان خوف زدہ : اقبال انصاری

اقبال انصاری نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں رام بھکتوں کے یہاں جمع ہونے سے مسلمان خود کو بے حد غیر محفوظ محسوس کررہےہیں۔

Nov 14, 2018 09:02 PM IST | Updated on: Nov 14, 2018 09:03 PM IST
اجودھیا میں وشو ہندو پریشد کی مجوزہ دھرم سبھا سے مسلمان خوف زدہ : اقبال انصاری

اقبال انصاری ۔ فوٹو ۔ نیوز 18 ۔

اجودھیا میں متنازع مقام پر مندر بنانے کےلئے وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی) کی 25نومبر کو مجوزہ دھرم سبھا کو مسلم فرقے کےجان و مال کےلئے ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے بابری مسجد کے مدعی اقبال انصاری نے حکومت سے اقلیتی فرقےکے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔مسٹر انصاری نے بدھ کو ’یواین آئی‘ سے بات چیت میں کہا’’وی ایچ پی نے 25نومبر کو پنچ کوسی پریکرما مارگ پر واقع بھکت مال کی بگیامیں دھارمک سبھا کے انعقادکا فیصلہ کیا ہے۔وی ایچ پی کا دعوی ہے کہ اس سبھا میں سنتوں اور دھرم آچاریوں کے علاوہ لاکھوں رام بھکت جمع ہوں گے۔حساس ضلع میں اس طرح کے بڑے پروگرام کی اجازت دینا قطعی ٹھیک نہیں ہے ، جبکہ متنازعہ مقام کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں کی تعداد میں رام بھکتوں کے یہاں جمع ہونے سے مسلمان خود کو بے حد غیر محفوظ محسوس کررہےہیں۔ بابری مسجد کے مدعی نے کہا کہ اگران لوگوں کو اس طرح کا پروگرام کرنا ہے ، تو دہلی میں پارلیمنٹ کا محاصرہ کریں اور سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دے کر مظاہرہ کریں۔اجودھیا میں اس قسم کے پروگرام اب نہیں ہونے چاہئے۔ یہاں کا مسلم سماج چاہتاہے کہ اس طرح کے پروگرام اب یہاں پر نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مندر اور مسجد تنازعہ میں عدالت عظمیٰ جو بھی فیصلہ سنائے گی ، ملک کا مسلم سماج اسے سرآنکھوں پر کھنے کےلئے تیار ہے۔اجودھیا میں ایک طرف شیوسینا کے ادھو ٹھاکرے آرہے ہیں اور دوسری طرف وشو ہندو پریشد کا یہ پروگرام ہورہاہے ، جس سے لاکھوں لوگ اجودھیا میں داخل ہوجائیں گے۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اجودھیا کے مسلمان اب یہاں سے اپنے گھر چھوڑ کرچلے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلم سبھی لوگ سپریم کورٹ کا احترام کریں اور انصاف کا انتظار کریں۔عدالت جو بھی فیصلہ کرے گی ہم ماننے کے لئے تیار ہیں۔

Loading...

Loading...