اجودھیا تنازع : عدالت کے باہر اگر کوئی قانون بنے گا تو اس کو مسلمان نہیں کرے گا تسلیم : اقبال انصاری

اقبال انصاری نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہو اور باہر قانون بنایا جائے ، ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں کورٹ الگ ہے اور ہندوستان الگ ہے ۔

Oct 18, 2018 02:51 PM IST | Updated on: Oct 18, 2018 02:57 PM IST
اجودھیا تنازع : عدالت کے باہر اگر کوئی قانون بنے گا تو اس کو مسلمان نہیں کرے گا تسلیم : اقبال انصاری

اقبال انصاری ۔ فائل فوٹو ۔

ناگپور میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے جمعرات کو رام مندر کے معاملہ پر دئے گئے بیان پر مختلف فریقوں کا رد عمل سامنے آرہا ہے ۔ جہاں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے موہن بھاگوت کے بیان کو سیاسی قرار دیا ہے ، وہیں دوسری طرف اجودھیا تنازع کے مسلم فریق اقبال انصاری نے کہا کہ اجودھیا مسئلہ پر عدالت سے باہر اگر کوئی قانون بنتا ہے تو اس کو مسلمان تسلیم نہیں کرے گا ۔

اقبال انصاری نے بھی کہا کہ جب الیکشن آتا ہے تو سبھی لیڈروں کو رام اور رام مندر یاد آتا ہے ۔ اقبال انصاری نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہو اور باہر قانون بنایا جائے ، ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں کورٹ الگ ہے اور ہندوستان الگ ہے ۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ فیصلہ عدالت کے توسط سے ہی ہو ۔ عدالت جو بھی فیصلہ کرے گا اس کو ہر مسلمان تسلیم کرے گا ۔ باہر کوئی بھی قانون بنے ، تو اس کو مسلمان تسلیم نہیں کرے گا ۔ جب ہندوستان کے آئین کو مسلمان تسلیم کررہا ہے تو ہندوستان کے کورٹ کی بات بھی مسلمان تسلیم کرے گا ۔

خیال رہے کہ ناگپور میں موہن بھاگوت نے جمعرات کو کہا کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے قانون بننا چاہئے ۔ لوگ سوال کررہے ہیں کہ آخر ان کی منتخب کی ہوئی حکومت ہونے کے باوجود مندر کی تعمیر کیوں نہیں ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مندر اب تک بن جانا چاہئے تھا ، لیکن سیاسی پارٹیاں اس پر سیاست کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : رام مندر کی تعمیر کے لئے بننا چاہئے قانون: موہن بھاگوت

 

Loading...