بابری مسجد یوم شہادت : پڑھئے ، 6 دسمبر کو کیا کیا ہوا اور کیسے ہوا ؟

ساتھ ہی ساتھ اس دن ایودھیا میں لاکھوں کارسیوک ایک اور نعرہ بار بار لگا رہے تھےکہ مٹی نہیں سركائیں گے ، دھانچہ توڑ کر جائیں گے۔

Dec 06, 2016 02:55 PM IST | Updated on: Dec 06, 2016 02:57 PM IST
بابری مسجد یوم شہادت : پڑھئے ، 6 دسمبر کو کیا کیا ہوا اور کیسے ہوا ؟

ایودھیا : 24 سال پہلے آج کی تاریخ میں ایودھیا میں بابری کو شہید کردیا گیا اور 6 دسمبر 1992 کا وہ دن تاریخ میں سیاہ دن کے طور پر ہمیشہ کیلئے درج ہوگیا۔ آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آخر 6 دسمبر کو کیا ہوا تھا اور کس طرح سے کارسیکوں اور ہندتووادی تنظیموں نے بی جے پی کی حمایت سے بابری مسجد کو شہید کی تھی ۔

پانچ دسمبر 1992

بڑے سے پتھر کو باندھ کر پہاڑ سے نیچے گرایا گیا، جو کہ بابری مسجد کو شہید کرنے کی ایک ریہرسل تھی ۔ساتھ ہی ساتھ اس دن ایودھیا میں لاکھوں کارسیوک ایک اور نعرہ بار بار لگا رہے تھےکہ مٹی نہیں سركائیں گے ، دھانچہ توڑ کر جائیں گے۔ بھگوا بریگیڈ نے اگلے دن 12 بجے کا وقت کارسیوا شروع کرنے کیلئے طے کیا تھا ۔ اس دن کارسیکوں کے چہرے پر ایک عجب قسم کی چمک صاف نظر آرہی تھی ۔

چھ دسمبر ، صبح 11 بجے

Loading...

تقریبا صبح 11 بجے کارسیوکوں کے ایک بڑےگروپ نے سیکورٹی گھیرا توڑنے کی کوشش کی ، لیکن انہیں واپس دھکیل دیا گیا۔ عین اسی وقت وی ایچ پی لیڈر اشوک سنگھل وہاں نظر آئے ، وہ کارسیوکوں سے گھرے ہوئے تھے اور انہیں کچھ بتا رہے تھے ۔ تھوڑی ہی دیر میں بی جے پی کے لیڈر مرلی منوہر جوشی بھی ان کے ساتھ ہوگئے۔ ادھر بھیڑ میں لال کرشن اڈوانی بھی نظر آئے۔ سبھی لوگ سیکورٹی گھیرا میں موجود تھے اور مسلسل بابری مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ تبھی پہلی مرتبہ مسجد کا بیرونی دروازہ توڑنے کی کوشش کی گئی ، لیکن پولیس نے اسے ناکام بنادیا۔ تصاویر واضح طورپر گواہی دیتی ہیں کہ اس دوران پولیس اہلکار دور کھڑے ہو کر تماشہ دیکھ رہے تھے۔

چھ دسمبر ، صبح ساڑھے 11 بجے

مسجد اب بھی صحیح و سلامت کھڑی تھی، تبھی وہاں پیلی پٹی باندھے کارسیوکوں کو ایک خودکش دستہ آ پہنچا، اس نے پہلے سے موجود کارسیوکوں کو کچھ سمجھانے کی کوشش کی، جیسے وہ کسی بڑے واقعہ کے لئے سب کو تیار کر رہے تھے، کچھ ہی دیر میں بابری مسجد کی حفاظت میں مامور پولیس کی اکلوتی ٹکڑی وہاں سے باہر نکلتی نظر آئی ، نہ کوئی مخالفت نہ مسجد کی حفاظت کی پرواہ۔ پولیس کی اس لاتعلقی کو دور بیٹھے پولیس افسر صرف دیکھتے رہے اور کچھ نہیں کیا۔ مسجد سے پولیس کے ہٹنے کے فورا بعد مین گیٹ پر دوسری مرتبہ دھاوا بول دیا گیا، جو کچھ پولیس والے وہاں رہ گئے تھے ، وہ بھی پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

چھ دسمبر ، دوپہر 12 بجے

دوپہر 12 بجے ایک بگل کی آواز پورے علاقے میں گونج اٹھی۔ یہ کارسیوکوں کے نعروں کی آواز تھی، کارسیوکوں کا ایک بڑا دستہ مسجد کی دیوار پر چڑھنے لگا، دیوار میں لگے گیٹ کا تالا بھی توڑ دیا گیا ، کچھ ہی دیر میں مسجد کارسیوکوں کے قبضے میں تھی، اس وقت کی ایک اور تصویر غور کرنے کے قابل ہے، اس وقت ایس ایس پی ڈی بی رائے پولیس اہلکاروں کو مقابلہ کرنے کے لئے کہہ رہے تھے ، لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی۔ اس وقت بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ کیا یہ پولیس کی بغاوت تھی یا پھر کیمرے کے سامنے کیا گیا سوچا سمجھا ڈرامہ۔ اس وقت تک پولیس اہلکار مکمل طور ہتھیار ڈال چکے تھے اور کدال اور پھاوڑے لئے کارسیوک مسجد شہید کرنے کا کام شروع کر چکے تھے،اور دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں میں بابری مسجد کو مکمل طور شہید کر دیا گیا۔

Loading...