دیوالیہ ہونے کی کگار پر ہندوستانی بینک ؟ پانچ سالوں میں ڈوبے ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے

ہندوستان کا بینکنگ شعبہ کہیں دیوالیہ ہونے کی جانب تو نہیں بڑھ رہا ہے ، کیونکہ گزشتہ ساڑھے پانچ سالوں میں بینکوں کی تین لاکھ 67 ہزار 765 کروڑ روپے کی رقم آپسی سمجھوتے کے تحت ڈوب ( رائٹ آف ) گئی ہے

Feb 18, 2018 01:02 PM IST | Updated on: Feb 18, 2018 01:02 PM IST
دیوالیہ ہونے کی کگار پر ہندوستانی بینک ؟ پانچ سالوں میں ڈوبے ساڑھے تین لاکھ کروڑ روپے

نئی دہلی : ہندوستان کا بینکنگ شعبہ کہیں دیوالیہ ہونے کی جانب تو نہیں بڑھ رہا ہے ، کیونکہ گزشتہ ساڑھے پانچ سالوں میں بینکوں کی تین لاکھ 67 ہزار 765 کروڑ روپے کی رقم آپسی سمجھوتے کے تحت ڈوب ( رائٹ آف ) گئی ہے، وہیں اس سے کہیں زیادہ رقم کو اب بھی ڈوبتے کھاتوں میں ڈالنے کی مجبوری نظر آرہی ہے۔

آر ٹی آئی کے تحت ریزر بینک آف انڈیا کی جانب سے جو معلومات فراہم کرائی گئی ہے ، وہ کافی سنسنی خیز ہے ۔ آر بی آئی کے مطابق 2012-13 سے ستمبر 2017 تک پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں نے آپسی سمجھوتے (انکلوڈنگ کمپرمائز ) کے ذریعہ کل 367765 کروڑ کی رقم رائٹ آف کی ہے ، اس میں سے 27 پبلک سیکٹر کے بینک ہیں جبکہ 22 پرائیویٹ سیکٹر کے بینک ہیں ، جنہوں نے یہ رقم رائٹ آف کی ہے۔

رائٹ آف کی جانے والی رقم میں اضافہ

سماجی کارکن چندر شیکھر گوڑ کو آر بی آئی کی جانب سے دئے گئے جواب میں بتایا گیا ہے کہ بینکوں کےذریعہ رائٹ آف کی جانے والی رقم میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔ سلسلے وار طریقہ سے نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ سال 2012-13 میں رائٹ آف کی گئی رقم 32127 کروڑ تھی ، جو بڑھ کر 2016-17 میں 103202 کروڑ روپے ہوگئی ۔

Loading...

آر بی آئی کے اعدادوشمار کے مطابق سال 2013-14 میں 40870 کروڑ ، سال 2014-15 میں 56144 کروڑ ، سال 2015-16 میں 69210 کروڑ کی رقم رائٹ آف کی گئی وہیں سال 2017-18 کے صرف ابتدائی چھ ماہ میں اپریل سے ستمبر کے درمیان 66162 کروڑ روپے کی رقم آپسی سمجھوتہ کی بنیاد پر رائٹ آف کی گئی ۔

پبلک سیکٹر بینکوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے مقابلہ میں تقریبا پانچ گنا رقم رائٹ آف کی

آر بی آئی کے ذریعہ فراہم اعداد و شمار واضح طور پر اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پبلک سیکٹر کے بینکوں نے پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں کے مقابلہ میں تقریبا پانچ گنا رقم رائٹ آف کی ہے ۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں نے جہاں ساڑھے پانچ سال میں 64187 کروڑ کی رقم رائٹ آف کی ہے ، وہیں پبلک سیکٹر کے بینکوں نے اسی مدت میں 303578 کروڑ کی رقم رائٹ آف کی ہے۔

رائٹ آف کرانے کا کھیل

بینکنگ سیکٹر کے ماہرین کے مطابق رائٹ آف کرانے کا کھیل اپنی نوعیت کا الگ کھیل ہے ۔ بینک جب قرض دیتے ہیں تو کھاتوں کو چار زمروں میں تقسیم کرتے ہیں ، یہ کھاتے قرض کی قسط جمع کرنے کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں ۔ اسٹینڈرڈ ( مقررہ وقت پر قسط ادا کرنے والے ) ، سب اسٹینڈر ( کچھ تاخیر کے ساتھ قسط ادا کرنے والے ) ، ڈاوٹ فل ( کئی ماہ تک قسط جمع نہ کرنے والے ) اور لاس ( جس رقم کی واپسی ممکن نہ ہو ) ۔ قرض لینے والا اپنی جو جائیداد ظاہر کرتا ہے ، اس کے تخمینہ کی بنیاد پر قرض فراہم کرایا جاتا ہے ، کئی صنعتوں میں حکومت کی جانب سے سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق کئی لوگ اپنی املاک کا تخمینہ بڑھا چڑھا کروا لیتے ہیں اور اس کی بنیاد پر انہیں زیادہ قرض مل جاتاہے ، پہلے تو وہ سبسڈی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد خود کو ڈیفالٹر کے زمرہ میں ڈالوالیتے ہیں یا پھر لاس کھاتوں کے زمرہ میں آجاتے ہیں۔

اتنا ہی نہیں اس کے بعد جب املاک کا تخمینہ کراتے ہیں تو وہ پہلے کے مقابلہ میں کافی کم نکلتا ہے ، اس صورت میں بینک کے پاس صرف ایک ہی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ متعلقہ املاک کی نیلامی سے ملنے والی رقم کو لے کر سمجھوتہ کرے اور باقی ماندہ رقم کو رائٹ آف کردے۔

بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی جانب بڑھنے کے اشارے

بینک افسران کے مطابق کوئی بھی بینک نہیں چاہتا کہ اس کی بیلنس شیٹ میں بقایا جات نظر آئے ، اسی کے پیش نظر رائٹ آف کی رقم بڑھتی جارہی ہے ، یہ صورتحال بینکنگ کیلئے اچھی نہیں ہے ، جو رقم رائٹ آف کی گئی ہے وہ عام صارفین کے حصہ کی ہے ، اس سے صارفین کا بینکوں پر اعتماد کم ہوگا ۔ اتنا ہی نہیں بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی جانب گامزن ہونے کا یہ ایک بڑا اشارہ بھی مانا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جن کی قرض کی رقم رائٹ آف کی جاتی ہے ، ان کی جائیداد پر بینکوں کو نظر رکھنا چاہئے ، مگر ایسا ہوتا نہیں ہے ، وہی شخص دوسری کمپنی بناکر پھر قرض لینے کیلئے قطار میں کھڑا ہوجاتا ہے، بینک ملازمین بھی اپنا ہدف پورا کرنے کی کوشش میں اس کو قرض دیدیتے ہیں  اور پھر نتائج وہی سامنے آتے ہیں جو ابھی آرہے ہیں ۔ وجے مالیا 9000 کروڑ روپے کی چپت لگاکر بھاگ گیا تو نیرو مودی نے 11300 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا ۔ یہ فہرست کتنی آگے بڑھے گی ابھی اسے کوئی نہیں جانتا۔

Loading...